کراچی کے میئر مرتضیٰ وہاب نے 42 دن کی لازمی لرنر مدت پوری کرنے کے بعد باضابطہ طور پر اپنا ڈرائیভিং لائسنس حاصل کر لیا ہے۔ شہر کے بلدیاتی سربراہ نے اس عمل سے گزر کر عام شہریوں کے لیے قانون کی پاسداری کی ایک عملی مثال قائم کی ہے۔
قانونی تقاضے اور روایتی طریقہ کار
پاکستان میں باضابطہ ڈرائیভিং لائسنس حاصل کرنے کے لیے سب سے پہلے لرنر پرمٹ بنوانا پڑتا ہے۔ قانون کے مطابق ٹیسٹ دینے سے پہلے کم از کم 42 دن کا انتظار کرنا لازمی ہوتا ہے۔ مرتضیٰ وہاب نے بھی اس مقررہ مدت کے دوران ٹریفک کے قوانین کو سمجھا اور پھر باضابطہ ٹیسট کے مراحل سے گزرے۔
کراچی پولیس اور ٹریفک حکام ان دنوں شہر بھر میں ڈرائیভিং لائسنس کے حصول کے عمل کو سخت اور شفاف بنا رہے ہیں۔
شہریوں کے لیے عملی ہدایات
اگر آپ بھی سڑک پر قانون کے دائرے میں رہنا چاہتے ہیں تو آپ کو بھی ان اقدامات پر عمل کرنا ہوگا:
- قریبی ٹریفک پولیس لائسنسنگ برانچ سے رجوع کریں یا آن لائن اپلائی کریں۔
- شناختی کارڈ کے ساتھ ابتدائی لرنر پرمٹ بنوائیں۔
- پورے 42 دن انتظار کرنے کے بعد ڈرائیونگ ٹیسٹ کے لیے تاریخ لیں۔
- ٹیسٹ پاس کرنے کے بعد فیس جمع کروائیں۔
آگے کیا دیکھنا ہے؟
امید کی جا رہی ہے کہ حکومتی شخصیات کے اس طرح کے اقدامات سے عام شہریوں میں بھی قانون کی پاسداری کا رجحان بڑھے گا۔ ٹریفک پولیس اب جعلی لائسنسوں کے خلاف بھی سخت کارروائی کر رہی ہے، اس لیے بہتر یہی ہے کہ آپ قانونی طریقے سے ہی اپنا لائسنس حاصل کریں۔
