کراچی کے مختلف علاقوں میں رات گئے ہونے والے مبینہ پولیس مقابلوں میں آٹھ زخمیوں سمیت بارہ ڈاکوؤں کو گرفتار کر لیا گیا ہے۔ ترجمان پولیس کے مطابق کارروائیاں سائٹ سپرہائی وے، نیو کراچی انڈسٹریل ایریا، میمن گوٹھ، درخشاں، گلشن معمار اور شاہ لطیف کے علاقوں میں کی گئیں۔ ان کارروائیوں کے دوران ملزمان کے قبضے سے ناجائز اسلحہ، چھینے گئے موبائل فونز، نقدی اور موٹر سائیکلیں برآمد کی گئی ہیں۔ زخمی ڈاکوؤں کو طبی امداد کے لیے اسپتال منتقل کر دیا گیا ہے جبکہ دیگر سے تفتیش جاری ہے۔
Rawalpindi Extortion and Police Brutality Cases
دوسری جانب راولپنڈی میں شہریوں کے تحفظ کے ذمہ دار قانون نافذ کرنے والے ادارے خود قانون شکنی میں ملوث پائے گئے ہیں۔ راولپنڈی پولیس نے ایک شہری کو اغوا کرنے اور اس سے بھتہ وصول کرنے کے الزام میں پولیس کانسٹیبل سمیت تین ملزمان کو گرفتار کر لیا ہے۔ متاثرہ شہری نے شکایت درج کروائی تھی کہ ایک پولیس اہلکار نے اپنے ساتھیوں کے ساتھ مل کر اسے اغوا کیا اور مبینہ طور پر بھتے کی رقم لے کر چھوڑا۔ اعلیٰ حکام نے اس گھناؤنے فعل کا نوٹس لیتے ہوئے فوری کارروائی کا حکم دیا۔
ایک اور واقعے میں راولپنڈی سے ڈولفن فورس کے اہلکاروں کی جانب سے ایک شہری پر مبینہ تشدد کی ویڈیو بھی وائرل ہوئی ہے۔ وائرل فوٹیج میں اہلکاروں کو سرعام شہری پر بندوق کے ذریعے تشدد کرتے ہوئے دیکھا جا سکتا ہے، جس کے بعد عوامی حلقوں میں شدید غم و غصہ پایا جا رہا ہے۔ شہریوں کا کہنا ہے کہ محافظ ہی جب محافظ بن جائیں تو عام آدمی کہاں جائے گا۔ پولیس حکام نے دونوں واقعات کی شفاف انکوائری کا وعدہ کیا ہے۔
What You Should Do
اگر آپ کو کراچی یا کسی بھی دوسرے شہر میں سٹریٹ کرائم یا پولیس کی جانب سے کسی ناانصافی کا سامنا کرنا پڑے تو فوری طور پر متعلقہ تھانے سے رجوع کریں۔ کراچی میں پولیس مقابلوں کے دوران ہونے والی ریکوریز کے بعد شہریوں کو چاہیے کہ وہ اپنے چوری یا چھینے گئے موبائل فونز اور موٹر سائیکلوں کے کاغذات تھانے میں پیش کر کے ان کی واپسی کے لیے قانونی کارروائی جلد از جلد شروع کریں۔ راولپنڈی جیسے واقعات میں سوشل میڈیا یا ہیلپ لائنز کے ذریعے آواز اٹھانا اب مجرموں کو قانون کے کٹہرے میں لانے کا مؤثر ذریعہ بن چکا ہے۔
What to Watch Next
آنے والے دنوں میں اس بات پر کڑی نظر رکھی جائے گی کہ کراچی کے ان مقابلوں میں گرفتار ہونے والے ملزمان کے خلاف عدالتوں میں کیا پیشرفت ہوتی ہے۔ اس کے علاوہ، راولپنڈی میں کانسٹیبل کی گرفتاری اور ڈولفن فورس کے اہلکاروں پر ہونے والے محکمانہ ایکشن کے نتائج بھی آنے باقی ہیں۔ شہریوں کو اس بات کا انتظار ہے کہ کیا محکمہ پولیس اپنے اندر موجود کالی بھیڑوں کے خلاف کوئی عبرتناک کارروائی کرتا ہے یا یہ معاملے بھی روایتی فائلوں کی نظر ہو جاتے ہیں۔
