وفاقی وزیر بحری امور جنید انوار چوہدری نے پاکستان کو علاقائی ٹرانس شپمنٹ حب بنانے کے لیے ایک جامع پالیسی متعارف کراتے ہوئے کراچی کی بندرگاہوں کے لیے تاریخی ٹرانس شپمنٹ مراعاتی پیکج کا اعلان کر دیا ہے۔ اس اقدام کا بنیادی مقصد ملکی بندرگاہوں کی مسابقت اور کارکردگی میں اضافہ کرنا ہے تاکہ کارگو ہینڈلنگ لاگت کو نمایاں طور پر کم کیا جا سکے۔ بین الاقوامی شپنگ لائنز طویل عرصے سے پاکستان میں زیادہ ہینڈلنگ اخراجات کی وجہ سے گریز کرتی رہی ہیں، جسے اب حکومت نے کم کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔

کراچی کی بندرگاہوں کی کارکردگی میں بہتری

نئے ٹرانس شپمنٹ پیکج کے تحت کارگو ہینڈلنگ کی لاگت میں تاریخی کمی کی گئی ہے تاکہ برآمدات اور تجارت کو فروغ مل سکے۔ وزارت بحری امور کے مطابق، اس پالیسی کا مقصد کراچی پورٹ اور پورٹ قاسم کو بین الاقوامی معیار کے مطابق بنانا ہے۔ ٹرمینل آپریٹرز کو ہدایت کی گئی ہے کہ وہ مسابقتی نرخ فراہم کریں تاکہ جہازوں کی آمد و رفت میں تیزی لائی جا سکے اور پورٹ پر تاخیر کے مسائل حل ہوں۔

  • کراچی کے ٹرمینلز پر کنٹینر ہینڈلنگ کے نرخوں میں نمایاں کمی
  • کسٹم کلیئرنس کے طریقہ کار کو تیز اور آسان بنانا
  • ٹرانس شپمنٹ بحری جہازوں کے لیے ترجیحی برتھنگ کی سہولت
  • ڈیجیٹل سسٹمز کے ذریعے کاغذی کارروائی کا خاتمہ

وزارت کا اسٹریٹجک ہدف

اس پالیسی کا مقصد پاکستان کو وسطی ایشیائی ریاستوں اور خطے کے دیگر ممالک کے لیے تجارت کا مرکزی دروازہ بنانا ہے۔ وفاقی حکومت نے فیڈرل بورڈ آف ریونیو اور دیگر متعلقہ اداروں کے ساتھ مل کر ایسے اقدامات کیے ہیں جن سے کاروباری لاگت کم ہوگی۔ بندرگاہوں پر جدید مشینری اور ڈیجیٹل ٹریکنگ سسٹمز کے نفاذ سے کارکردگی مزید بہتر ہوگی۔

تاجروں اور لاگت سے وابستہ افراد کے لیے اثرات

اگر آپ لاگت، شپنگ یا برآمدات کے شعبے سے وابستہ ہیں، تو یہ پالیسی آپ کے لیے شپنگ کے اخراجات میں کمی کا باعث بنے گی۔ اس اقدام سے ملک میں تجارتی سرگرمیاں تیز ہوں گی اور بیرونی سرمایہ کاری کی راہ ہموار ہوگی۔ آپ اس حوالے سے مزید تفصیلات اور نوٹیفیکیشنز وزارت بحری امور کی آفیشل ویب سائٹ maritime.gov.pk پر دیکھ سکتے ہیں۔

آگے کیا دیکھنا ہوگا

اس پیکج کی اصل کامیابی اس کے عملی نفاذ میں پوشیدہ ہے۔ آپ کو آنے والے ہفتوں میں اس بات کا جائزہ لینا ہوگا کہ ٹرمینل آپریٹرز کس حد تک ان احکامات پر عمل کرتے ہیں اور کسٹم حکام اس حوالے سے کیا مزید ایس او پیز جاری کرتے ہیں۔