کراچی میں ٹرالر کی ٹکر سے اپنے جوان بیٹے سے محروم ہونے والے ایک والد نے قانونی جنگ کا آغاز کرتے ہوئے 13 کروڑ روپے ہرجانے کا دعویٰ دائر کر دیا۔ متوفی کے والد محمد سرفراز نے ٹینکر ڈرائیور حفیظ اللہ اور گاڑی کے مالک گلفراز خان کو فریق بناتے ہوئے عدالت سے انصاف کی گہار لگائی ہے۔ اس المناک واقعے نے ایک بار پھر میٹروپولیٹن شہروں میں ہیوی ٹریفک کی اندھی رفتار اور غفلت کو بے نقاب کر دیا ہے۔

کراچی ٹرالر حادثے کی تفصیلات

یہ افسوسناک حادثہ اس وقت پیش آیا جب تیز رفتار ٹرالر نے سڑک پر 24 سالہ فیضان کو کچل ڈالا۔ خاندان کے وکیل کے مطابق جاں بحق ہونے والا نوجوان اپنے بوڑھے والدین کا واحد سہارا اور گھر کا کفیل تھا۔ ابتدائی پولیس رپورٹ اور عینی شاہدین کے بیانات کے مطابق حادثہ ڈرائیور کی شدید غفلت اور اور اسپیڈ لمیٹ کی کھلی خلاف ورزی کا نتیجہ تھا۔ شہر میں ڈمپرز اور ٹرالرز کی جانب سے شہریوں کی زندگیوں سے کھیلنے کا یہ پہلا واقعہ نہیں ہے۔

13 کروڑ ہرجانے کے قانونی پہلو

محمد سرفراز کی جانب سے دائر کیے گئے 13 کروڑ روپے کے دعوے میں ہیوی گاڑی کے ڈرائیور کے ساتھ ساتھ اس کے مالک کو بھی ذمہ دار ٹھہرایا گیا ہے۔ پاکستانی دیوانی قوانین کے تحت لواحقین کو یہ حق حاصل ہے کہ وہ غفلت برتنے والے مالکان سے مالی ہرجانے کا مطالبہ کریں۔ قانونی ماہرین کا کہنا ہے کہ اس نوعیت کے بڑے مقدمات میں عدالتوں سے فیصلہ حاصل کرنا ایک طویل اور صبر آزما مرحلہ ہوتا ہے، تاہم متاثرہ خاندانوں کی جانب سے ایسے سخت قانونی اقدامات اٹھانے سے ٹرانسپورٹ مافیا پر دباؤ بڑھتا ہے۔

سڑکوں پر حادثات کی صورت میں آپ کو کیا کرنا چاہیے

اگر خدانخواستہ آپ کے حلقے میں بھی ایسی کوئی ناگہانی آفت یا ہیوی ٹریفک کا حادثہ پیش آ جائے تو درج ذیل اقدامات کو یقینی بنائیں:

  • سب سے پہلے متعلقہ تھانے سے ایف آئی آر کی مصدقہ نقل حاصل کریں۔
  • تمام طبی دستاویزات، ڈیتھ سرٹیفکیٹ اور عینی شاہدین کے بیانات محفوظ کریں۔
  • صرف ڈرائیور تک محدود نہ رہیں بلکہ گاڑی کے اصل مالک کے خلاف بھی قانونی چارہ جوئی کے لیے وکیل سے رجوع کریں۔
  • شہری آبادیوں میں ہیوی گاڑیوں کے داخلے کے اوقات پر عملدرآمد کے لیے مقامی فورمز پر آواز اٹھائیں۔

اس مقدمے میں آگے کیا ہوگا؟

عدالت کا یہ فیصلہ اس بات کا تعین کرے گا کہ نظام عدل طاقتور ٹرانسپورٹ مالکان کے خلاف کس حد تک موثر کارروائی کرتا ہے۔ آپ کو اس کیس کی اگلی سماعتوں اور فریقین کو عدالت کی طرف سے ملنے والے نوٹسز پر نظر رکھنی ہوگی۔ عوامی دباؤ اور میڈیا کی کڑی نظر ہی اس بات کی ضمانت دے سکتی ہے کہ متاثرہ خاندان کو انصاف ملے اور آئندہ ایسی غفلت کا سدباب ہو۔