کراچی کے رہائشی اس وقت دوہری مشکل میں گھرے ہوئے ہیں کیونکہ کراچی واٹر اینڈ سیوریج کارپوریشن (KWSC) نے شہر میں پانی کے شدید بحران کے باوجود اپنے محصولات میں اضافے کا فیصلہ کیا ہے۔ شہریوں کے لیے کراچی واٹر بل کی ادائیگی ایک بوجھ بنتی جا رہی ہے، خاص طور پر ان علاقوں میں جہاں پائپ لائن سے پانی کی فراہمی نہ ہونے کے برابر ہے۔
کراچی واٹر بل میں اضافے کی حقیقت
واٹر کارپوریشن کا موقف ہے کہ بڑھتی ہوئی تنخواہوں اور بجلی کے نرخوں کے باعث اخراجات پورے کرنے کے لیے ریونیو میں اضافہ ناگزیر ہے۔ لیکن حقیقت یہ ہے کہ شہر کے بیشتر مکین مہینوں سے خشک نلکوں کے سامنے بیٹھے ہیں اور پرائیویٹ ٹینکر مافیا کو بھاری رقوم ادا کرنے پر مجبور ہیں۔ شہریوں کا کہنا ہے کہ جو سہولت فراہم ہی نہیں کی جا رہی، اس کا بل بڑھانا سراسر ناانصافی ہے۔
اصلاحات کے بجائے بوجھ کا اضافہ
کے ڈبلیو ایس سی کا انتظامی ڈھانچہ طویل عرصے سے تنقید کی زد میں ہے۔ بجائے اس کے کہ لائن لاسز اور پانی کی چوری پر قابو پایا جاتا، کارپوریشن کی ساری توجہ موجودہ صارفین سے مزید پیسے وصول کرنے پر مرکوز ہے۔ یہ صورتحال عام آدمی کے لیے ناقابل برداشت ہے جو پہلے ہی مہنگائی کی چکی میں پس رہا ہے۔
آپ کو کیا کرنا چاہیے؟
اگر آپ کو بھی بلاجواز بھاری بل موصول ہو رہے ہیں تو درج ذیل اقدامات کریں:
- اپنے ماہانہ بلوں کا ریکارڈ رکھیں اور ان دنوں کی نشاندہی کریں جب پانی بالکل نہیں آیا۔
- کے ڈبلیو ایس سی کی ویب سائٹ kwsc.gos.pk پر اپنی شکایت درج کروائیں۔
- اپنے علاقے کے نمائندوں سے رابطہ کریں اور اجتماعی شکایات درج کروائیں تاکہ متعلقہ حکام پر دباؤ ڈالا جا سکے۔
آئندہ کیا متوقع ہے؟
آئندہ آنے والے دنوں میں واٹر کارپوریشن کے بورڈ اجلاسوں پر نظر رکھیں، جہاں مزید ٹیرف میں تبدیلیوں کا امکان ہے۔ عوامی دباؤ کے پیش نظر ممکن ہے کہ حکومت کو اس فیصلے پر نظرثانی کرنی پڑے۔ کسی بھی قسم کے ریلیف پیکج یا سبسڈیز کے لیے ادارے کی ویب سائٹ کو باقاعدگی سے چیک کرتے رہیں۔
