تیز بارشوں اور گلیشیرز کے تیزی سے پگھلنے کے باعث آنے والے شدید سیلاب نے گلگت بلتستان میں مواصلات کا نظام درہم برہم کر دیا ہے جس کی وجہ سے اہم ترین قراقرم ہائی وے کو ٹریفک کے لیے بند کر دیا گیا ہے۔ ضلع غذر اس قدرتی آفت سے سب سے زیادہ متاثر ہوا ہے جہاں متعدد مکانات، سڑکیں، پل اور زرعی زمینیں پانی اور ملبے کی نذر ہو چکی ہیں۔ مقامی انتظامیہ کے مطابق سڑکیں بند ہونے کی وجہ سے ملک بھر سے آئے ہوئے سینکڑوں سیاح مختلف مقامات پر محصور ہو کر رہ گئے ہیں۔
غذر میں سب سے زیادہ نقصان
غذر کے مختلف علاقوں میں سیلابی ریلوں نے بنیادی ڈھانچے کو شدید نقصان پہنچایا ہے اور کئی رابطہ پل پانی میں بہہ گئے ہیں۔ مسلسل بارشوں کے بعد پہاڑوں سے گرنے والے تودوں اور مٹی کے سیلاب نے امدادی کارروائیوں کو بھی انتہائی مشکل بنا دیا ہے۔ دریاؤں اور ندی نالوں کے قریب آباد مکینوں کو فوری طور پر محفوظ مقامات پر منتقل ہونے کی ہدایات جاری کی گئی ہیں کیونکہ پانی کی سطح مسلسل بلند ہو رہی ہے۔
- غذر اور گردونواح کے علاقوں میں درجنوں گھروں کو جزوی یا مکمل نقصان پہنچا ہے۔
- کھڑی فصلیں اور پھلوں کے باغات ملبے تلے دب کر تباہ ہو گئے ہیں۔
- کئی وادیوں میں بجلی اور مواصلاتی رابطے منقطع ہو چکے ہیں۔
قراقرم ہائی وے کی بندش اور پھنسے ہوئے سیاح
متعدد مقامات پر پہاڑی تودے گرنے کی وجہ سے قراقرم ہائی وے ہر قسم کی ٹریفک کے لیے بند کر دی گئی ہے، جس سے مسافروں کی طویل قطاریں لگ گئی ہیں۔ تعطیلات منانے شمالی علاقوں کا رخ کرنے والے خاندان خوراک اور سرپناہ کی کمی کا شکار ہیں۔ نیشنل ہائی وے اتھارٹی (این ایچ اے) کی بھاری مشینری راستے کھولنے کے کام میں مصروف ہے لیکن مسلسل بارشوں کی وجہ سے کام میں رکاوٹ آ رہی ہے۔
اب آپ کو کیا کرنا چاہیے
اگر آپ گلگت بلتستان یا شمالی علاقہ جات کے سفر کا ارادہ رکھتے ہیں تو فی الحال اپنا سفر ملتوی کر دیں۔ کسی بھی متبادل یا کچے راستے سے گزرنے کی کوشش ہرگز نہ کریں کیونکہ پہاڑی تودے گرنے کا سلسلہ اب بھی جاری ہے۔ سفر سے پہلے متعلقہ اداروں اور ٹریفک پولیس کی جاری کردہ تازہ ترین ہدایات ضرور ملاحظہ کریں۔
آئندہ کیا متوقع ہے
محکمہ موسمیات کی جانب سے شمالی علاقوں میں مزید بارشوں کی پیشگوئی پر نظر رکھیں تاکہ کسی بھی ہنگامی صورتحال سے بچا جا سکے۔ این ایچ اے کی جانب سے شاہراہوں کی بحالی کے اعلانات اور ضلعی انتظامیہ کی امدادی سرگرمیوں کی تازہ ترین صورتحال سے آگاہ رہیں۔
