کرناٹک کے وزیر صحت یو ٹی قادر نے دوٹوک انداز میں واضح کیا ہے کہ گٹکھے پر پابندی کا حکم ہرگز واپس نہیں لیا گیا، جس سے اس پالیسی کے خاتمے سے متعلق تمام افواہیں دم توڑ گئی ہیں۔
میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے یو ٹی قادر نے زور دے کر کہا کہ پان مصالحے میں نکوٹین پر پابندی عائد کرنے کا فیصلہ مکمل طور پر عوامی صحت کے مفاد میں کیا گیا ہے۔ انہوں نے یقین دہانی کرائی کہ اس حکومتی اقدام سے سپاری پیدا کرنے والے کسانوں کے روزگار یا کاروبار پر کوئی منفی اثر نہیں پڑے گا۔
عوامی صحت کا تحفظ اور کسانوں کے حقوق
گٹکھے پر پابندی کے نفاذ کے بعد سے زرعی برادری میں خدشات پائے جاتے تھے کہ اس سے نقدی فصلوں کی معیشت متاثر ہو گی۔ تاہم، صوبائی وزیر صحت نے ان خدشات کو رد کرتے ہوئے کہا کہ ضابطہ کاری کا مقصد صرف مضر صحت اجزاء اور نکوٹین کا استعمال روکنا ہے، روایتی زراعت کو نقصان پہنچانا نہیں۔
سرکاری محکمے مارکیٹوں میں غیر قانونی مصنوعات کی سپلائی روکنے کے لیے مسلسل نگرانی کر رہے ہیں تاکہ تمام علاقوں میں احکامات پر من و عن عمل درآمد یقینی بنایا جا سکے۔
نفاذ اور مارکیٹ کا ردعمل
محکمہ صحت کے حکام کو ہدایت کی گئی ہے کہ وہ صوبے بھر میں خوردہ فروشوں اور ہول سیلرز کے خلاف سخت نگرانی جاری رکھیں۔ صحت عامہ کے ماہرین نے اس دوٹوک موقف کو سراہتے ہوئے کہا ہے کہ مستقل پالیسی ہی کینسر اور دیگر مہلک بیماریوں کی روک تھام کا واحد راستہ ہے۔
آپ کو کیا کرنا چاہیے
اگر آپ یا آپ کا کوئی جاننے والا تمباکو نوشی یا گٹکھے کا عادی ہے، تو صحت کے حوالے سے احتیاطی تدابیر اختیار کریں اور اس عادت سے جان چھڑانے کے لیے طبی ماہرین سے رجوع کریں۔ غیر قانونی اشیاء کی فروخت کی فوری متعلقہ حکام کو اطلاع دیں۔
آگے کیا دیکھنا ہے
آنے والے دنوں میں ضلعی انتظامیہ کی جانب سے چھاپہ مار کارروائیوں اور سپلائی چین کی کڑی نگرانی سے متعلق مزید احکامات متوقع ہیں۔
