کنٹرول لائن کے دونوں اطراف موجود کشمیریوں نے حریت رہنما شیخ عبد العزیز کشمیر کو ان کی شجاعت، بے باک قیادت اور تحریک آزادی کشمیر سے لازوال وابستگی پر زبردست خراج تحسین پیش کیا ہے۔
شیخ عبد العزیز جموں و کشمیر پیپلز لیگ کے چیئرمین اور کل جماعتی حریت کانفرنس (اے پی ایچ سی) کے مرکزی رہنما تھے۔ انہیں 11 اگست 2008 کو بھارتی فورسز نے اس وقت گولی مار کر شہید کر دیا تھا جب وہ وادی کشمیر پر مسلط کی گئی اقتصادی ناپابندیوں کے خلاف مظفر آباد کی طرف ایک پرامن عوامی مارچ کی قیادت کر رہے تھے۔ ان کی یہ عظیم قربانی مقبوضہ جموں و کشمیر کی جدید تاریخ کا ایک انتہائی اہم موڑ شمار کی جاتی ہے۔
اہم حقائق اور پس منظر
- تاریخ شہادت: 11 اگست 2008 (مظفر آباد لانگ مارچ کے دوران)۔
- عہدے: چیئرمین جموں و کشمیر پیپلز لیگ، سینئر حریت رہنما۔
- مارچ کی وجہ: وادی کشمیر کی معاشی ناکہ بندی اور امار ناتھ زمین تنازع کے خلاف پرامن احتجاج۔
- بنیادی مطالبہ: اقوام متحدہ کی قراردادوں کے مطابق کشمیریوں کو حق خودارادیت دینا۔
شیخ عبد العزیز کشمیر کی جدوجہد اور قربانی
شیخ عبد العزیز نے اپنی زندگی کا بڑا حصہ کشمیریوں کی آزادی اور بنیادی حقوق کی جنگ لڑتے ہوئے گزارا۔ انہوں نے بھارتی انتظامیہ کی جانب سے متعدد بار طویل قید و بند اور تشدد کا سامنا کیا، لیکن کبھی اپنے نظریاتی موقف پر سمجھوتہ نہیں کیا۔
اگست 2008 میں جب جموں کے انتہا پسندوں نے وادی کشمیر کا معاشی محاصرہ کر کے شاہراہوں کو بند کر دیا، تو مقامی پھل تاجروں اور عام شہریوں کو سخت معاشی مشکلات کا سامنا کرنا پڑا۔ اس ناکہ بندی کے جواب میں حریت قیادت نے 'مظفر آباد چلو' کا نعرہ دیا تاکہ آزاد کشمیر کے ساتھ تجارت اور آمد و رفت کی راہ ہموار کی جا سکے۔
ضلع بارہمولا کے علاقے شیری میں بھارتی سیکیورٹی فورسز نے پرامن مظاہرین پر سیدھی فائرنگ کر دی، جس کے نتیجے میں شیخ عبد العزیز شدید زخمی ہوئے اور بعد ازاں جام شہادت نوش کر گئے۔ ان کی شہادت کے بعد وادی بھر میں شدید عوامی احتجاج شروع ہو گیا تھا۔
موجودہ حالات میں اس قربانی کی اہمیت
5 اگست 2019 کو مقبوضہ کشمیر کی خصوصی حیثیت کے خاتمے کے بعد پیدا ہونے والی صورتحال میں شیخ عبد العزیز کی یاد مزید اہمیت اختیار کر گئی ہے۔ حریت رہنماؤں کا کہنا ہے کہ جس خودمختاری اور حقوق کی خاطر شیخ عبد العزیز نے جان دی، آج اس کی حفاظت کے لیے اتحاد اور استقامت کی پہلے سے کہیں زیادہ ضرورت ہے۔
پاکستان اور دنیا بھر میں مقیم کشمیری اس دن کو اس عزم کی تجدید کے طور پر مناتے ہیں کہ شہداء کی قربانیوں کو ضائع نہیں ہونے دیا جائے گا۔ آج بھی یاسین ملک، شبیر شاہ اور مسرت عالم بھٹ جیسے درجنوں حریت رہنما بھارتی جیلوں میں قید ہیں، جن کی رہائی کے لیے عالمی سطح پر آواز اٹھانا وقت کی ضرورت ہے۔
عوام اور کارکنان کے لیے اہم اقدامات
- کشمیریوں کی آواز بنیں: سوشل میڈیا اور عالمی پلیٹ فارمز پر مقبوضہ کشمیر میں ہونے والی انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں پر مستند مواد شیئر کریں۔
- عالمی اداروں تک رسائی: اقوام متحدہ کے انسانی حقوق کمیشن اور بین الاقوامی تنظیموں کو خطوط اور درخواستیں ارسال کریں۔
- آگاہی سیمینارز: پاکستان کی یونیورسٹیوں اور تعلیمی اداروں میں کشمیری شہداء اور حریت تاریخ سے متعلق سیمینارز کا انعقاد کریں۔
آگے کیا دیکھنا ہے
اقوام متحدہ کے جنرل اسمبلی اجلاس اور دیگر عالمی فورمز کے موقع پر مسئلہ کشمیر پر سفارتی سرگرمیاں تیز ہو جاتی ہیں۔ انے والے دنوں میں اسلام آباد، مظفر آباد اور عالمی دارالحکومتوں میں حریت کانفرنس کی جانب سے مزید یادگاری تقاریب اور سیمینارز کا انعقاد متوقع ہے۔
