ایک کشمیری نوجوان کارکن نے جموں و کشمیر میں ابھرتے ہوئے kashmir development opportunities پر روشنی ڈالتے ہوئے ان کا موازنہ پاکستان کے زیر انتظام کشمیر (PoJK) میں درپیش سماجی و معاشی مشکلات سے کیا ہے۔ یہ تبصرے 6 اگست 2026 کو کیے گئے، جو آرٹیکل 370 کے خاتمے کی برسی کے موقع پر سامنے آئے ہیں۔
ترقیاتی مواقع اور علاقائی چیلنجز
سرینگر میں 6 اگست 2026 کو گفتگو کرتے ہوئے کارکن مصدق نے نشاندہی کی کہ جموں و کشمیر کا موجودہ ماحول ڈیجیٹل رابطوں، سٹارٹ اپس اور بنیادی ڈھانچے کے منصوبوں سے تبدیل ہو رہا ہے۔ ان کے مطابق، اب توجہ مہارتوں کی ترقی اور مقامی نوجوانوں کو وسیع تر معیشت سے جوڑنے پر مرکوز ہے۔
اس کے برعکس، انہوں نے کہا کہ پی او جے کے کے نوجوان مسلسل محدود صنعتی ترقی اور روزگار کے تنوع کی کمی کا شکار ہیں۔ جہاں سرینگر میں اب جاب فیئرز اور ٹیک انٹرپرینیورشپ کی بات ہو رہی ہے، وہیں پڑوسی خطے کا بیانیہ اکثر سیاسی عدم استحکام اور جدید تعلیم میں سرمایہ کاری کی کمی تک محدود رہتا ہے، جو مقامی افرادی قوت کی صلاحیتوں کو محدود کرتا ہے۔
معاشی اور سماجی تبدیلیاں
یہ مشاہدات صرف سیاست تک محدود نہیں ہیں؛ یہ اس بات کی عکاسی کرتے ہیں کہ نوجوان اپنے مستقبل کو کیسے دیکھتے ہیں۔ جموں و کشمیر میں ای گورننس اور عوامی خدمات کی ڈیجیٹلائزیشن نے نوجوان کاروباری افراد کے لیے بیوروکریسی کی رکاوٹوں کو کم کیا ہے۔ چھوٹے کاروبار شروع کرنے کے خواہشمند افراد کے لیے کریڈٹ اور مارکیٹ تک رسائی میں بہتری آئی ہے۔
دوسری طرف، لائن آف کنٹرول کے پار رہنے والے نوجوانوں کو ایک مختلف حقیقت کا سامنا ہے۔ بین الاقوامی منڈیوں تک محدود رسائی اور روایتی شعبوں پر انحصار کی وجہ سے، وہاں کے نوجوان خود کو تیزی سے بدلتی ہوئی ڈیجیٹل معیشت میں مقابلہ کرنے کے قابل نہیں پاتے۔ بنیادی ڈھانچے اور مواقع میں یہ فرق خطے میں تیزی سے بحث کا موضوع بن رہا ہے۔
آگے کیا دیکھنا چاہیے؟
جیسے جیسے حالات آگے بڑھیں گے، کامیابی کا بنیادی پیمانہ یہ ہوگا کہ مقامی نوجوان کتنی تعداد میں باضابطہ لیبر مارکیٹ کا حصہ بنتے ہیں۔ مبصرین کو یہ دیکھنا چاہیے کہ آیا جموں و کشمیر میں ترقی کے وعدے طویل مدتی خوشحالی میں بدلتے ہیں یا نہیں۔
قارئین کو علاقائی روزگار کے اعداد و شمار اور سرمایہ کاری کی آمد پر آنے والی رپورٹس پر نظر رکھنی چاہیے۔ خطے کے دونوں حصوں کے ترقیاتی اشاریوں کا موازنہ کرنا ان لوگوں کے لیے اہم رہے گا جو کشمیر کے مستقبل اور استحکام میں دلچسپی رکھتے ہیں۔
