ایوی ایشن کے اس المناک واقعے کی تحقیقات میں اس وقت نیا موڑ آ گیا جب طیارے کی قانونی دستاویزات کے حوالے سے اہم انکشافات سامنے آئے۔ سرکاری ذرائع کے مطابق کیٹو ایئرویز کارگو طیارہ کی انشورنس پالیسی مبینہ طور پر حادثہ پیش آنے سے پہلے ہی ختم ہو چکی تھی، جس سے ایوی ایشن کے شعبے میں حفاظتی قوانین اور نگرانی پر سنجیدہ سوالات اٹھ کھڑے ہوئے ہیں۔
جبکہ تحقیقاتی ٹیمیں ملبے اور ڈیجیٹل ریکارڈ کی جانچ پڑتال میں مصروف ہیں، سول ایوی ایشن اتھارٹی (سی اے اے) نے اس معاملے پر محتاط رویہ اختیار کیا ہوا ہے۔ سی اے اے حکام کا کہنا ہے کہ تمام متعلقہ ریکارڈ اور دستاویزات تحقیقاتی بورڈ کے پاس جمع کرا دی گئی ہیں، اس لیے انشورنس سے متعلق کوئی بھی حتمی مؤقف یا بیان اس وقت تک جاری نہیں کیا جا سکتا جب تک تحقیقاتی عمل مکمل نہیں ہو جاتا۔
تحقیقات سے سامنے آنے والے اہم حقائق
- حادثے کا شکار ہونے والے کارگو کیریئر کے پاس پرواز کے وقت مبینہ طور پر فعال انشورنس سرٹیفکیٹ موجود نہیں تھا۔
- سول ایوی ایشن اتھارٹی کے نمائندگان نے تصدیق کی ہے کہ تمام جسمانی اور ڈیجیٹل ریکارڈ اب تحقیقاتی بورڈ کی تحویل میں ہے۔
- ایوی ایشن کے ماہرین اس بات کا جائزہ لے رہے ہیں کہ آیا ان شرائط کے باوجود طیارے کو ٹیک آف کی اجازت کیسے دی گئی۔
- معیاری حفاظتی پروٹوکولز کی جانچ کے لیے مزید فارنزک آڈٹ جاری ہیں۔
سول ایوی ایشن اتھارٹی کا مؤقف
جب حکام سے یہ پوچھا گیا کہ بغیر درست بیمہ پالیسی کے کوئی طیارہ کیسے فضا میں بلند ہو سکتا ہے، تو ریگولیٹری ترجمان کا کہنا تھا کہ تحقیقاتی عمل کی شفافیت کو متاثر نہیں کیا جا سکتا۔ چونکہ اس وقت تمام شواہد اور ریکارڈ خصوصی تحقیقاتی بورڈ کی تحویل میں ہیں، اس لیے روایتی انتظامی تفصیلات جاری کرنے سے گریز کیا جا رہا ہے۔
انتظامیہ کی اس خاموشی نے فضائی امور کے ماہرین کو تشویش میں مبتلا کر دیا ہے جو اس معاملے پر مکمل شفافیت کا مطالبہ کر رہے ہیں۔ پاکستان اور بیرون ملک کارگو پروازوں کے لیے سخت حفاظتی ضوابط کی پاسداری لازمی ہے، اور بیمہ پالیسی کا مبینہ طور پر ختم ہونا پرواز سے قبل کی جانچ پڑتال میں غفلت کی نشان دہی کرتا ہے۔
قارئین کے لیے آئندہ کی صورتحال
اگر آپ پاکستان میں ایوی ایشن سیفٹی کی صورتحال پر نظر رکھتے ہیں، تو آپ کو تحقیقاتی بورڈ کی حتمی رپورٹ کا انتظار کرنا چاہیے۔ اس رپورٹ سے یہ واضح ہوگا کہ آیا اس المناک واقعے میں غفلت کارفرما تھی یا نہیں اور ایئر لائن انتظامیہ کے خلاف کیا قانونی کارروائی عمل میں لائی جائے گی۔ ایوی ایشن ڈویژن کی جانب سے مزید اعلانات کے لیے ہماری خبروں پر نظر رکھیں۔
