بھارت میں دیہی روزگار کے بحران پر کانگریس کے صدر ملکارجن کھڑگے نے مودی حکومت کو شدید تنقید کا نشانہ بنایا ہے۔ کھڑگے کا کہنا ہے کہ حکومتی پالیسیوں نے لاکھوں خاندانوں سے ان کا 'حق روزگار' چھین لیا ہے، جس کے نتیجے میں دیہی علاقوں میں ملازمتوں کے مواقع میں 50 فیصد تک کمی واقع ہوئی ہے۔
دیہی روزگار کے بحران کی حقیقت
مہاتما گاندھی نیشنل رورل ایمپلائمنٹ گارنٹی ایکٹ (منریگا) دیہی مزدوروں کے لیے ایک اہم سہارا تھا، جو انہیں سالانہ 100 دن کے روزگار کی ضمانت دیتا تھا۔ کھڑگے نے الزام لگایا کہ مودی حکومت نے اس پروگرام کو کمزور کر کے ایک متبادل نظام مسلط کیا ہے، جس نے مزدوروں کے لیے کام کے دروازے بند کر دیے ہیں۔ ان کے مطابق، اس تبدیلی کی وجہ سے دیہی مزدوروں کی آمدنی میں نمایاں کمی آئی ہے اور وہ معاشی بدحالی کا شکار ہو رہے ہیں۔
حکومتی پالیسیوں پر سوالات
کھڑگے نے کہا کہ حکومت نے نہ صرف منریگا کو غیر فعال کیا بلکہ اپنے نئے اقدامات کے ذریعے مزدوروں کی آواز دبانے کے لیے طاقت کا استعمال بھی کیا ہے۔ انہوں نے تلخ تبصرہ کرتے ہوئے کہا کہ مودی حکومت نے مزدوروں پر بھی لاٹھی چلائی ہے، جس سے یہ ظاہر ہوتا ہے کہ حکمران طبقے کو غریب کی مشکلات سے کوئی سروکار نہیں ہے۔
آگے کیا ہو سکتا ہے؟
بھارتی سیاست میں منریگا کا مستقبل ایک اہم بحث بن چکا ہے۔ ماہرین معاشیات کا کہنا ہے کہ اگر دیہی روزگار کے اعداد و شمار میں یہ گراوٹ برقرار رہی تو اس کے اثرات بھارت کی مجموعی معیشت پر پڑ سکتے ہیں۔ اپوزیشن اب حکومت سے مطالبہ کر رہی ہے کہ وہ دیہی معیشت کو سہارا دینے کے لیے فوری طور پر ٹھوس اقدامات کرے اور مزدوروں کے حقوق کو یقینی بنائے۔
پاکستان میں مبصرین اس صورتحال کو جنوبی ایشیائی خطے میں سماجی تحفظ کے پروگراموں کی اہمیت کے تناظر میں دیکھ رہے ہیں۔ یہ دیکھنا باقی ہے کہ آیا مودی حکومت اپنے موجودہ معاشی ایجنڈے میں کوئی تبدیلی لاتی ہے یا دیہی مزدوروں کا یہ بحران مزید شدت اختیار کر جائے گا۔
