وزیر دفاع خواجہ آصف نے کہا ہے کہ اسرائیل پوری مسلم دنیا کے لیے ایک خطرہ ہے اور اب وقت آ گیا ہے کہ اسلامی ممالک خواجہ آصف کا اسرائیل کے خلاف متحدہ فوجی محاذ بنانے کے مطالبے پر عمل کریں۔
ہفتہ کے روز ایک نیوز آؤٹ لیٹ سے گفتگو کرتے ہوئے وزیر دفاع نے کہا کہ موجودہ علاقائی صورتحال صرف سفارتی بیانات کی متقاضی نہیں ہے۔ انہوں نے تجویز دی کہ مسلم دنیا کو ایک متحد فوجی قوت کے طور پر سامنے آنا چاہیے تاکہ خطے کے استحکام کو درپیش چیلنجز کا مقابلہ کیا جا سکے۔
متحدہ فوجی محاذ کا مطالبہ کیوں کیا گیا؟
یہ بیان پاکستان اور سعودی عرب کے درمیان مشرق وسطیٰ کی صورتحال پر ہونے والی اعلیٰ سطحی بات چیت کے ایک دن بعد سامنے آیا ہے۔ اسلام آباد اور ریاض کے درمیان سفارتی رابطے تیز ہو گئے ہیں، جس کا مقصد خطے میں انسانی بحران اور سکیورٹی خدشات پر ایک متفقہ لائحہ عمل تیار کرنا ہے۔
پاکستانی عوام کے لیے یہ بیان حکومت کے اس بدلتے ہوئے موقف کی عکاسی کرتا ہے جس میں اب زبانی حمایت سے آگے بڑھ کر عملی اقدامات پر زور دیا جا رہا ہے۔ اگرچہ پاکستان کا روایتی موقف دو ریاستی حل کی حمایت پر مبنی ہے، لیکن خواجہ آصف کے الفاظ حکومت کے اندر بڑھتی ہوئی بے چینی کو ظاہر کرتے ہیں۔
علاقائی سلامتی پر اثرات
ایک 'متحدہ فوجی محاذ' کا قیام ایک بڑا سفارتی ہدف ہے جس کے راستے میں کئی پیچیدگیاں حائل ہیں۔ تاریخی طور پر، اسلامی تعاون تنظیم (OIC) کے رکن ممالک اپنے مختلف جغرافیائی مفادات اور سکیورٹی معاہدوں کی وجہ سے فوجی معاملات پر ایک پیج پر آنے میں مشکلات کا شکار رہے ہیں۔
- سفارتی ہم آہنگی: سعودی عرب کے ساتھ حالیہ مشاورت ظاہر کرتی ہے کہ پاکستان تنہا اقدام کرنے کے بجائے ایک علاقائی بلاک کی قیادت کرنے کی کوشش کر رہا ہے۔
- عوامی جذبات: خواجہ آصف کا بیان پاکستان کے عوامی جذبات سے ہم آہنگ ہے، جہاں فلسطین کا مسئلہ خارجہ پالیسی کا اہم ستون سمجھا جاتا ہے۔
آگے کیا ہوگا؟
آنے والے دنوں میں او آئی سی کے اجلاسوں اور دفتر خارجہ کے بیانات پر نظر رکھنا ضروری ہے۔ توقع ہے کہ قومی اسمبلی میں بھی حکومت سے اس مجوزہ فوجی اتحاد کی عملی حیثیت کے بارے میں سوالات کیے جائیں گے۔ اگر آپ حکومت کے سرکاری موقف پر نظر رکھنا چاہتے ہیں تو mofa.gov.pk ملاحظہ کریں۔
