وفاقی وزیر دفاع خواجہ آصف نے ملک میں نظامی تبدیلی کے مطالبات پر سخت ردعمل دیتے ہوئے کہا ہے کہ اگر واقعی ملک کا نظام بدلنے کی نیت ہے تو اس کا عملی آغاز پاکستان کرکٹ بورڈ سے کیا جائے۔
ایک نجی ٹی وی پروگرام میں گفتگو کرتے ہوئے خواجہ آصف نے وزیر داخلہ اور چیئرمین پی سی بی محسن نقوی کے حالیہ بیانات کا حوالہ دیا۔ مسلم لیگ ن کے سینئر رہنما کا کہنا تھا کہ اداروں میں ارتقائی عمل جاری رہنا چاہیے لیکن تبدیلی کے دعوے ہوا میں کرنے کے بجائے زمینی حقائق پر دکھائے جانے چاہئیں جہاں کسی قسم کی قانونی یا پارلیمانی رکاوٹ موجود نہ ہو۔
پی سی بی اصلاحات کا بہترین میدان کیوں ہے؟
وزیر دفاع نے واضح کیا کہ کرکٹ بورڈ کے معاملات میں نہ تو کوئی وزیر اعظم مداخلت کرتا ہے اور نہ ہی وہاں کوئی فرسودہ سیاسی نظام یا پارلیمنٹ راہ میں حائل ہوتی ہے۔
- کرکٹ انتظامیہ کے پاس اپنے فیصلے کرنے کا مکمل اختیار ہے۔
- بورڈ کے امور میں کوئی اپوزیشن جماعت دھرنا نہیں دیتی۔
- بجٹ اور فنڈز کے استعمال کے معاملے میں انتظامیہ خود مختار ہے۔
خواجہ آصف کا کہنا تھا کہ چونکہ اس ادارے میں کوئی سیاسی مجبوری یا رکاوٹ موجود نہیں ہے، اس لیے سب سے پہلے وہیں انقلاب لا کر دکھایا جائے تاکہ عوام کو تبدیلی کا عملی نمونہ مل سکے۔
انتظامی تبدیلی پر سیاسی بحث
حکومتی حلقوں کے اندر اس بیان نے اداروں کی کارکردگی اور اصلاحات کے طریقہ کار پر نئی بحث چھڑ دی ہے۔ ایک ایسے وقت میں جب عوام مہنگائی، بجلی کے بلوں اور معاشی مشکلات سے نبردآما ہیں، وزراء کے درمیان اس قسم کے تبصرے سیاسی ماحول کو گرمائے ہوئے ہیں۔ عام شہری روزمرہ کی زندگی میں ریلیف کا منتظر ہے جبکہ حکومتی شخصیات کھیلوں اور انتظامی ڈھانچے کی بہتری پر بحث کر رہی ہیں۔
آپ کو کیا کرنا چاہیے؟
شہریوں کو چاہیے کہ اسلام آباد کی ان لفظی جنگوں سے ہٹ کر اپنی توجہ گھریلو اخراجات، یوٹیوب بلوں اور مقامی مسائل پر مرکوز رکھیں۔ سیاسی بیانات پر زیادہ توجہ دینے کے بجائے اپنے روزمرہ کے امور اور معاشی بہتری پر دھیان دیں۔
آگے کیا دیکھنا ہوگا؟
آنے والے دنوں میں دیکھنا یہ ہوگا کہ پی سی بی کی انتظامیہ خواجہ آصف کے اس طنز کا کیا جواب دیتی ہے اور کیا کرکٹ بورڈ کے اندر کسی بڑی تبدیلی کا اعلان کیا جاتا ہے۔ اس کے علاوہ وفاقی کابینہ کے اندر اس قسم کے بیانات سے پیدا ہونے والے سیاسی اثرات پر بھی نظر رکھنا ہوگی۔
