وزیر اعلیٰ خیبر پختونخوا سہیل آفریدی نے صوبائی کابینہ کے ارکان، معاونین خصوصی اور مشیروں کی جانب سے عوامی مسائل کے حل کے لیے فیلڈ میں مسلسل موجودگی کو سراہا ہے۔ پشاور میں منعقدہ کابینہ کے اجلاس کے دوران وزیر اعلیٰ نے اس بات پر زور دیا کہ عوام کے ساتھ براہ راست رابطہ حکومتی کارکردگی کو بہتر بنانے کے لیے کلیدی حیثیت رکھتا ہے۔

کے پی کابینہ کی کارکردگی اور عوامی رابطہ

صوبے بھر کے شہریوں کے لیے، انتظامیہ کا دفتر سے نکل کر فیلڈ میں کام کرنا ایک اہم پیش رفت ہے۔ اس حکمت عملی کا مقصد یہ ہے کہ کابینہ کے ارکان اپنے حلقوں میں موجود رہیں اور عوامی شکایات کو بروقت حل کریں۔ وزیر اعلیٰ کا کہنا ہے کہ عوام کے قریب رہنے سے انفراسٹرکچر، یوٹیلیٹی سروسز اور مقامی انتظامیہ سے جڑے مسائل کو تیزی سے حل کرنے میں مدد ملتی ہے۔

  • ضلعی سطح پر شکایات کے ازالے کے نظام میں بہتری۔
  • دور دراز علاقوں میں ترقیاتی منصوبوں کی براہ راست نگرانی۔
  • فیلڈ دوروں کے دوران عوام سے ملنے والی آراء کی باقاعدہ رپورٹنگ۔

شہریوں کے لیے براہ راست رابطے کی اہمیت

جب حکومتی عہدیدار فیلڈ میں وقت گزارتے ہیں، تو مقامی محکموں پر کام کی رفتار بڑھانے کا دباؤ بڑھتا ہے۔ عام شہری کے لیے اس کا مطلب یہ ہے کہ وزراء اب صرف صوبائی دارالحکومت تک محدود نہیں، بلکہ وہ کمیونٹی سے مشاورت کے لیے دستیاب ہیں۔ اس اقدام سے صفائی، پانی کی فراہمی اور امن و امان جیسے مسائل پر فوری توجہ دینے کی توقع کی جا رہی ہے۔

آئندہ کے لیے اہم نکات

وزیر اعلیٰ کی جانب سے تعریف کے بعد اب اصل امتحان اس حکمت عملی کے تسلسل کا ہے۔ عوام کو یہ دیکھنا چاہیے کہ آیا یہ دورے صرف علامتی ہیں یا ان سے پالیسی میں ٹھوس تبدیلیاں آ رہی ہیں۔ آپ صوبائی حکومت کی آفیشل ویب سائٹ kp.gov.pk پر کابینہ کے فیصلوں اور پالیسی اپ ڈیٹس پر نظر رکھ سکتے ہیں۔

آنے والے وقت میں، حکومت مختلف محکموں کی کارکردگی کا اسکور کارڈ جاری کرنے کا ارادہ رکھتی ہے تاکہ یہ معلوم کیا جا سکے کہ فیلڈ دوروں سے عوامی شکایات کے حل میں کتنی مدد ملی ہے۔ اگر آپ کے علاقے میں کوئی سرکاری عہدیدار عوامی مسائل سننے آیا ہے، تو ان سے ہونے والی بات چیت کا ریکارڈ رکھنا مفید ثابت ہو سکتا ہے۔