بندوق کے زور پر کبھی امن قائم نہیں کیا جا سکتا اور ریاستی سطح پر اختیار کی جانے والی غلط پالیسیوں کی وجہ سے پورا صوبہ اس وقت آگ کی لپیٹ میں ہے۔ ان خیالات کا اظہار صوبائی قیادت نے یوم شہدائے پولیس کی ایک تقریب سے خطاب کرتے ہوئے کیا۔
تقریب کے دوران انتہائی سخت الفاظ میں مؤقف اپنایا گیا کہ ریاست کے اندر موجود کچھ عناصر ایک بار پھر دہشت گردوں کو دوبارہ آباد کرنے کے فیصلے کر رہے ہیں۔ مقررین کا کہنا تھا کہ اس طرح کے فیصلوں سے صوبے کا امن تباہ ہو رہا ہے اور قانون نافذ کرنے والے اداروں بالخصوص پولیس کی قربانیوں کو ضائع کرنے کی کوشش کی جا رہی ہے۔
غلط پالیسیاں اور زمینی حقائق
صوبائی قیادت کا یہ بیان سکیورٹی اور عسکری پالیسیوں پر کھل کر تنخواہ کی عکاسی کرتا ہے۔ اس سے قبل بھی مقامی آبادی اور انتظامیہ کی جانب سے اس امر پر تشویش کا اظہار کیا جاتا رہا ہے کہ عسکریت پسندوں کی بحالی کے تجربات نے ماضی میں بھی صوبے کو شدید نقصان پہنچایا ہے۔ تجزیہ کاروں کے مطابق، طاقت کے استعمال کے ساتھ ساتھ سیاسی اور انتظامی فیصلوں میں شفافیت لائے بغیر دیرپا امن کا حصول ناممکن ہے۔
- صوبائی حکومت کا مؤقف ہے کہ محض بندوق اور طاقت سے مسائل حل نہیں کیے جا سکتے۔
- دہشت گردوں کو دوبارہ بسانے کی کوششوں کے خلاف کڑے الفاظ میں خبردار کیا گیا۔
- پولیس شہداء کی قربانیوں کو خراج تحسین پیش کیا گیا جنہوں نے صوبے کے دفاع کے لیے جانیں۔
اب آپ کو کیا کرنا چاہیے
اگر آپ خیبر پختونخوا کے کسی بھی حساس ضلع میں مقیم ہیں یا سفر کر رہے ہیں، تو مقامی انتظامیہ اور سکیورٹی اداروں کی جانب سے جاری کردہ ہدایات پر سختی سے عمل کریں۔ کسی بھی ناخوشگوار واقعے یا مشکوک سرگرمی کی صورت میں فوری طور پر پولیس ہیلپ لائن سے رابطہ کریں۔
آگے کیا دیکھنا ہوگا
آنے والے دنوں میں وفاقی اور صوبائی حکومتوں کے درمیان اس پالیسی بیان پر ممکنہ ردعمل کا بغور جائزہ لیں۔ یہ دیکھنا اہم ہوگا کہ آیا ریاست دہشت گردی کے خلاف اپنی حکمت عملی میں کوئی تبدیلی لاتی ہے یا کشمکش کا یہ سلسلہ مزید طول پکڑتا ہے۔
