خیبرپختونخوا کے وزیراعلیٰ نے واضح کیا ہے کہ بند کمروں کے فیصلوں کی وجہ سے صوبے کے حالات خراب ہوئے ہیں مگر وہ اس نظام کو خود درست کریں گے۔ انتظامی بحران اور بدتر ہوتی امن وامان کی صورتحال پر بات کرتے ہوئے انہوں نے اس عزم کا اظہار کیا کہ عوام کے حقوق پر کوئی سمجھوتہ نہیں کیا جائے گا۔ پشاور سے لے کر جنوبی اضلاع تک عام شہری مہنگائی اور انتظامی تعطل کی چکی میں پس رہے ہیں، جہاں ترقیاتی فنڈز کی بندش اور پالیسیوں میں ابہام نے روزمرہ زندگی کو مشکل بنا دیا ہے۔
بند کمروں کی پالیسیوں کا نقصان
وفاق اور صوبائی حکومت کے درمیان کشیدگی نے کے پی کے عوام کے لیے مشکلات میں اضافہ کر دیا ہے۔ جب فیصلے عوام کے منتخب نمائندوں کو اعتماد میں لیے بغیر کیے جائیں تو زمینی حقائق کو نظر انداز کر دیا جاتا ہے۔ پشاور کے سرکاری دفاتر میں فائلیں رک جاتی ہیں اور ترقیاتی کام التوا کا شکار ہو جاتے ہیں۔ عام آدمی جب بازار جاتا ہے تو اسے مہنگائی کے ساتھ ساتھ حکومتی بے بسی کا سامنا بھی کرنا پڑتا ہے، جس سے اس کا ماہانہ بجٹ بری طرح متاثر ہوتا ہے۔
سیاسی سرگرمیاں اور جلسے کی تیاریاں
بانی چیئرمین کی گرفتاری کو تین سال مکمل ہونے پر پارٹی کی طرف سے بڑے سیاسی جلسے کا اعلان کیا گیا ہے۔ رہنماؤں بالخصوص سہیل آفریدی کا کہنا ہے کہ تمام رکاوٹوں کے باوجود پرامن سیاسی احتجاج ان کا آئینی حق ہے۔ جلسے کی تیاریوں کے لیے ضلعی انتظامیہ سے اجازت طلب کی جا رہی ہے جبکہ سیکیورٹی اداروں کو بھی الرٹ کر دیا گیا ہے۔ اس پاور شو کا مقصد کارکنوں کا مورچہ بلند کرنا اور وفاقی حکومت پر دباؤ بڑھانا ہے۔
- بڑے شہروں میں جلسوں کی تیاریوں کا آغاز
- اہم شاہراہوں پر سیکیورٹی سخت کرنے کے احکامات
- انتظامیہ کی جانب سے این او سی کی درخواستوں کا جائزہ
آپ کو کیا کرنا چاہیے
اگر آپ خیبرپختونخوا میں مقیم ہیں تو سیاسی جلسوں اور احتجاج کی کال کے پیش نظر اپنے سفری منصوبے محفوظ رکھیں۔ جلسے کے دنوں میں مرکزی شاہراہوں اور پریس کلب کے اطراف غیر ضروری سفر سے گریز کریں تاکہ ٹریفک جام سے بچ سکیں۔ کاروباری حضرات کو چاہیے کہ وہ حالات پر نظر رکھیں اور سیاسی سرگرمیوں کے دوران اپنی دکانوں اور دفاتر کی سیکیورٹی کے انتظامات مکمل رکھیں۔
آگے کیا دیکھنا ہوگا
آئندہ دنوں میں یہ دیکھنا اہم ہوگا کہ صوبائی حکومت جلسے کے انعقاد میں کتنی کامیاب رہتی ہے اور کیا وفاقی ادارے راستے روکنے کے لیے رکاوٹیں کھڑی کرتے ہیں۔ وزیراعلیٰ کے دعوے کتنی جلدی عملی جامہ پہنتے ہیں، اس کا اندازہ آئندہ چند ہفتوں میں ہونے والے انتظامی فیصلوں سے ہوگا۔ بجٹ کی تقسیم اور امن و امان سے متعلق محکمہ داخلہ کی نئی ہدایات پر بھی نظر رکھیں۔
