وزیراعلیٰ خیبرپختونخوا علی امین گنڈا پور نے خبردار کیا ہے کہ اگر حکومت نے جمعرات کے روز بانی پی ٹی آئی عمران خان سے ملاقات نہ کروائی تو ڈی چوک احتجاج کے ذریعے پورے ملک کو مفلوج کر دیا جائے گا۔ انہوں نے واضح کیا کہ اگر مطالبات تسلیم نہ کیے گئے تو رات 10 بجے ڈی چوک پر احتجاج کا آغاز کر دیا جائے گا۔

ڈی چوک احتجاج کی دھمکی اور مطالبات

اسلام آباد میں سیاسی کشیدگی عروج پر ہے کیونکہ صوبائی حکومت نے ملاقات کے لیے جمعرات کی ڈیڈ لائن مقرر کر دی ہے۔ گنڈا پور نے کہا کہ بانی پی ٹی آئی کے اہل خانہ نے ضمانت دی ہے کہ ملاقات کے دوران کوئی سیاسی گفتگو نہیں کی جائے گی، بلکہ یہ ملاقات صرف قانونی اور ذاتی نوعیت کی ہوگی۔

تاہم، حکومت کی جانب سے اجازت نہ ملنے پر پی ٹی آئی قیادت نے سخت موقف اپنا لیا ہے۔ وزیراعلیٰ کا کہنا ہے کہ اگر بانی پی ٹی آئی کو کچھ ہوا تو اس کی تمام تر ذمہ داری موجودہ حکمرانوں پر عائد ہوگی۔

شہریوں کے لیے احتیاطی تدابیر

جمعرات کی رات کے لیے دی گئی ڈی چوک احتجاج کی کال کے پیشِ نظر جڑواں شہروں کے رہائشیوں کو مشکلات کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے۔ متوقع صورتحال کے پیشِ نظر سڑکوں کی بندش، موبائل سروس کی معطلی اور سیکیورٹی کے سخت انتظامات متوقع ہیں۔ شہریوں کو مشورہ دیا جاتا ہے کہ وہ گھر سے نکلنے سے پہلے ٹریفک کی صورتحال اور سیکیورٹی الرٹس کو ضرور چیک کریں تاکہ کسی بھی ناخوشگوار صورتحال سے بچا جا سکے۔

آئندہ کا لائحہ عمل

آئندہ چند گھنٹے انتہائی اہم ہیں، کیونکہ اگر حکومت اور اپوزیشن کے درمیان ملاقات پر اتفاق ہو جاتا ہے تو احتجاج کا خطرہ ٹل سکتا ہے۔ دوسری صورت میں، اسلام آباد کی انتظامیہ اور پولیس کی جانب سے جاری کردہ ہدایات پر عمل کرنا ہر شہری کی ذمہ داری ہوگی۔ عوام کو چاہیے کہ وہ صرف تصدیق شدہ خبروں پر بھروسہ کریں اور افواہوں سے گریز کریں۔