خیبر پختونخوا کی صوبائی حکومت نے باضابطہ طور پر اعتراف کیا ہے کہ وہ صوبے بھر میں اسکول نہ جانے والے یا تعلیم سے محروم بچوں کی درست تعداد سے لاعلم ہے۔ یہ اعتراف صوبے کے تعلیمی شعبے میں انتظامی غفلت کے ایک بڑے خلا کو ظاہر کرتا ہے، کیونکہ حکام اب اس بحران کی شدت کا تعین کرنے کے لیے صوبہ گیر سروے شروع کرنے کی تیاری کر رہے ہیں۔

تعلیم سے محروم بچوں کا بحران

تعلیم سے محروم بچوں (out of school children) کے بارے میں درست اعداد و شمار کسی بھی تعلیمی اصلاحات کی بنیاد ہوتے ہیں۔ جب تک حکومت کو یہ معلوم نہیں ہوگا کہ کتنے بچے اسکول جانے سے قاصر ہیں، تب تک بجٹ کا درست تعین، نئے اسکولوں کی تعمیر اور داخلہ مہمات کو کامیاب بنانا ممکن نہیں ہے۔

فی الحال، اس ڈیٹا کی عدم موجودگی کا مطلب یہ ہے کہ خیبر پختونخوا کے دور دراز اضلاع میں ہزاروں بچے تعلیمی محکمے کی نظروں سے اوجھل ہیں۔ ایک مرکزی اور اپ ڈیٹ شدہ ڈیٹا بیس کا نہ ہونا طویل عرصے سے تعلیم کے شعبے میں کام کرنے والے کارکنوں کی جانب سے تنقید کا ہدف رہا ہے۔

ڈیٹا اکٹھا کرنے کے لیے نئے سروے کا فیصلہ

اس معلومات کی کمی کو پورا کرنے کے لیے، صوبائی حکام نے ایک جامع سروے شروع کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔ اس سروے کا مقصد ان بچوں کی نشاندہی کرنا ہے جو غربت، بنیادی سہولیات کے فقدان یا دیگر سماجی رکاوٹوں کی وجہ سے اسکول نہیں جا رہے۔ اگرچہ حکومت نے ابھی تک اس سروے کی تکمیل کے لیے کسی حتمی تاریخ کا اعلان نہیں کیا ہے، لیکن یہ فیصلہ ثبوت پر مبنی پالیسی سازی کی جانب ایک اہم قدم ہے۔

صوبے کے رہائشیوں کے لیے، یہ اقدام مستقبل میں بہتر تعلیمی سہولیات تک رسائی کا باعث بن سکتا ہے۔ تاہم، اس منصوبے کی کامیابی کا انحصار مکمل طور پر ڈیٹا اکٹھا کرنے کے عمل کی شفافیت پر ہے۔ ماضی میں اس طرح کے سروے اکثر پسماندہ علاقوں اور ضم شدہ اضلاع میں درست معلومات فراہم کرنے میں ناکام رہے ہیں۔

والدین اور عوام کے لیے ہدایات

اگر آپ ایک والدین یا کمیونٹی لیڈر ہیں، تو اس بات پر نظر رکھیں کہ آپ کے علاقے میں یہ سروے کیسے عمل میں لایا جا رہا ہے۔ درست مردم شماری ہی ان اقدامات کی بنیاد بنے گی جن کے ذریعے نئے اسکولوں کی تعمیر، اساتذہ کی بھرتی اور بچوں کو اسکول میں برقرار رکھنے کے لیے مراعاتی پیکجز کا اعلان کیا جا سکے۔

آنے والے مہینوں میں محکمہ تعلیم خیبر پختونخوا کی جانب سے اعلانات پر توجہ دیں۔ توقع کی جا رہی ہے کہ حکومت سروے کے عمل میں مقامی انتظامیہ اور عمائدین کو شامل کرے گی۔ اگر آپ کے علاقے میں سروے ٹیمیں آتی ہیں، تو اپنے گھرانے کے بچوں کے بارے میں درست معلومات فراہم کرنا ضروری ہے تاکہ تعلیمی وسائل ان تک پہنچ سکیں جنہیں ان کی سب سے زیادہ ضرورت ہے۔