خیبر پختونخوا حکومت نے صوبے بھر میں اسکول نہ جانے والے بچوں کی نشاندہی کے لیے گھر گھر گنتی (سروے) کرنے کا حتمی فیصلہ کر لیا ہے۔ اس اقدام کا مقصد ایسے تمام بچوں کا ڈیٹا اکٹھا کرنا ہے جو فی الحال تعلیمی نظام سے باہر ہیں تاکہ انہیں اسکولوں میں داخل کرایا جا سکے۔

اسکول نہ جانے والے بچوں کے سروے پر عمل درآمد

اس سروے کو کامیاب بنانے کے لیے ایک مشترکہ حکمت عملی ترتیب دی گئی ہے۔ محکمہ ابتدائی و ثانوی تعلیم اس مہم میں مرکزی حیثیت رکھے گا، تاہم اسے دیگر محکموں کا بھرپور تعاون حاصل ہوگا۔ حکومتی فیصلے کے مطابق درج ذیل محکمے مل کر کام کریں گے:

  • محکمہ ابتدائی و ثانوی تعلیم
  • محکمہ لوکل گورنمنٹ
  • محکمہ صحت
  • محکمہ سماجی بہبود

ان چاروں محکموں کے باہمی اشتراک سے حکومت اس قابل ہوگی کہ وہ نادرا، صحت کے ریکارڈ اور سماجی بہبود کے ڈیٹا کو ملا کر ان بچوں تک پہنچ سکے جو اب تک اسکولوں سے دور ہیں۔ یہ مربوط کوشش اس بات کو یقینی بنائے گی کہ کوئی بھی بچہ تعلیم کے حق سے محروم نہ رہے۔

والدین کے لیے اہم معلومات

خیبر پختونخوا کے عام شہریوں کے لیے یہ ایک اہم موقع ہے کہ وہ اپنے بچوں کے مستقبل کو محفوظ بنائیں۔ جب سرکاری ٹیمیں آپ کے گھر پہنچیں گی تو آپ کو اپنے بچوں کے تعلیمی ریکارڈ کے بارے میں درست معلومات فراہم کرنی ہوں گی۔ یہ سروے صرف گنتی تک محدود نہیں بلکہ اس کا بنیادی مقصد ان رکاوٹوں کو دور کرنا ہے جن کی وجہ سے بچے اسکول نہیں جا پا رہے۔

اگر آپ کے گھر میں کوئی بچہ اسکول نہیں جا رہا، تو سروے ٹیم کے ساتھ تعاون کریں تاکہ انہیں سرکاری اسکولوں میں داخلے کے عمل میں شامل کیا جا سکے۔ حکومت کا یہ اقدام ان خاندانوں کے لیے بھی مددگار ثابت ہوگا جنہیں اسکول کی سہولیات تک رسائی میں مشکلات کا سامنا ہے۔

آئندہ کے اقدامات

گھر گھر گنتی مکمل ہونے کے بعد، حکومت اس ڈیٹا کی بنیاد پر داخلوں کی ایک نئی مہم کا آغاز کرے گی۔ اس ڈیٹا سے یہ بھی معلوم ہو سکے گا کہ صوبے کے کن اضلاع میں تعلیمی سہولیات کی زیادہ ضرورت ہے۔ امید ہے کہ سروے کے بعد حکومت ان علاقوں میں نئے اسکولوں کے قیام یا موجودہ اسکولوں میں سہولیات کی فراہمی کو یقینی بنائے گی۔

والدین کو مشورہ ہے کہ وہ محکمہ تعلیم کے ضلعی دفاتر اور مقامی انتظامیہ کی جانب سے آنے والی ہدایات پر نظر رکھیں۔ جیسے ہی اس سروے کے مراحل اور اضلاع کی تفصیلات سامنے آئیں گی، ہم آپ کو مزید آگاہ کریں گے۔