خیبر پختونخوا حکومت نے یومِ آزادی کے موقع پر صوبے میں ایک بڑی شجر کاری مہم کا آغاز کیا ہے، جس کے تحت 14 اگست 2024 کو ایک ہی دن میں 14 لاکھ پودے لگانے کا تاریخی ہدف مقرر کیا گیا ہے۔
صوبائی وزیر اطلاعات و تعلقات عامہ خیبر پختونخوا شفیع جان نے میڈیا کو بریفنگ دیتے ہوئے بتایا کہ یہ اقدام صوبے کے ماحولیاتی تحفظ اور سرسبز پاکستان کے خواب کو عملی تعبیر دینے کے لیے اٹھایا گیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ محکمہ جنگلات اور ضلعی انتظامیہ کو ہدایت کی گئی ہے کہ وہ اس ہدف کو کامیابی سے مکمل کرنے کے لیے تمام تر وسائل بروئے کار لائیں۔
شجر کاری مہم کی تفصیلات
اس مہم کا مقصد صرف پودے لگانا نہیں بلکہ ان کی دیکھ بھال کو یقینی بنانا بھی ہے۔ حکومتی عہدیداروں کے مطابق، صوبے کے مختلف اضلاع میں مقامی آب و ہوا کے مطابق پودوں کا انتخاب کیا گیا ہے تاکہ ان کی نشوونما بہتر طریقے سے ہو سکے۔ 14 اگست کو سرکاری دفاتر، تعلیمی اداروں اور عوامی مقامات پر بڑے پیمانے پر شجر کاری کی جائے گی۔
شفیع جان نے اس موقع پر سیاسی صورتحال پر بات کرتے ہوئے کہا کہ حکومت اپنی آئینی ذمہ داریوں کے ساتھ ساتھ عوامی فلاحی منصوبوں پر بھی پوری توجہ دے رہی ہے۔ انہوں نے سابق وزیر اعظم عمران خان کی رہائی اور ملکی آئینی و قانونی معاملات پر بھی اپنے خیالات کا اظہار کیا، تاہم ان کا بنیادی زور صوبے میں جاری ترقیاتی کاموں پر رہا۔
عوام کیسے حصہ لے سکتے ہیں؟
عوام کے لیے اس مہم میں حصہ لینے کے بہترین مواقع موجود ہیں:
- اپنے قریبی ضلعی محکمہ جنگلات کے دفتر سے رابطہ کریں تاکہ شجر کاری کی مقامات کا تعین ہو سکے۔
- 14 اگست کو اپنے علاقے میں ہونے والی تقریبات میں بطور رضاکار شامل ہوں۔
- پودوں کی حفاظت اور پانی کے انتظام کے لیے مقامی انتظامیہ کے ساتھ تعاون کریں۔
مستقبل میں کیا توقع رکھی جائے؟
اس تاریخی ہدف کے حصول کے بعد، اب اہم سوال ان پودوں کی بقا کا ہے۔ حکومت کو چاہیے کہ وہ اس مہم کے بعد ایک مانیٹرنگ رپورٹ جاری کرے تاکہ معلوم ہو سکے کہ کتنے فیصد پودے کامیابی سے تناور درخت بن رہے ہیں۔ عوام کو مشورہ ہے کہ وہ اپنے مقامی علاقوں میں لگائے گئے پودوں کی نگرانی خود بھی کریں تاکہ اس قومی مہم کا فائدہ طویل مدتی بنیادوں پر حاصل کیا جا سکے۔
