کوسوو کے حکام نے ملک کے شمالی حصے میں تیسری ممکنہ اجتماعی قبر کی نشاندہی کی ہے، جس سے 1990 کی دہائی کے جنگی جرائم کے بارے میں تحقیقات میں مزید وسعت آ گئی ہے جہاں اس سے قبل 11 افراد کی باقیات دریافت ہو چکی ہیں۔ فارنزک ٹیمیں اور پولیس کے تفتیش کار شمالی علاقے میں اس کھردرے خطے کی چھان بین کر رہے ہیں، جہاں 1990 کی دہائی کے آخر کے تنازع سے جڑے لاپتہ افراد کے کیسز مقامی خاندانوں کے لیے اب بھی ایک گہرا اور حل طلب مسئلہ بنے ہوئے ہیں۔
کوسوو میں اجتماعی قبروں کی تحقیقات کا دائرہ کار
تلاش کا یہ تازہ ترین آپریشن گزشتہ چند ماہ کے دوران اس خطے میں ہونے والی پچھلی دریافتوں کی بنیاد پر جاری ہے۔ حکام نے تصدیق کی ہے کہ فارنزک ماہرین نے اس تیسری جگہ کی طرف اشارہ کرنے والی نئی خفیہ معلومات ملنے سے پہلے کم از کم دو سابقہ مقامات سے انسانی باقیات برآمد کی تھیں۔ تفتیش کار ممکنہ فارنزک مواد کو نقصان پہنچائے بغیر احتیاط سے شواہد نکالنے کے لیے گراؤنڈ پینیٹریٹنگ ریডার اور بھاری مشینری کا استعمال کر رہے ہیں۔
- کوسوو کے شمال میں فارنزک ٹیمیں تعینات
- پچھلی جگہوں سے برآمد شدہ باقیات کی کل تعداد 11 افراد تک پہنچ گئی
- متاثرین کی شناخت کے لیے ڈی این اے پروفائلنگ جاری
کووسوو میں 1998-1999 کے تنازع نے ہزاروں افراد کو ہلاک اور لاپتہ کر دیا تھا، اور جنگ کے بعد کے حالات میں خفیہ دفنانے کی جگہوں کی تلاش بحالی کے سب سے حساس پہلوؤں میں سے ایک ہے۔ یورپی یونین کے اداروں سمیت بین الاقوامی ادارے مقامی حکام کے ساتھ مل کر ڈی این اے ڈیٹا بیس کو ان خاندانوں کے ساتھ منسلک کرنے میں مدد جاری رکھے ہوئے ہیں جو دہائیوں سے اپنے پیاروں کی تلاش میں ہیں۔
آگے کیا دیکھنا ہوگا
جیسے جیسے شمالی علاقے میں دریافت ہونے والی نئی جگہ پر کھدائی کا کام جاری ہے، فارنزک پیتھالوجسٹ کو توقع ہے کہ آنے والے ہفتوں میں نئی دریافت ہونے والی باقیات کے بارے میں ابتدائی نتائج جاری کیے جائیں گے۔ لاپتہ افراد کے لواحقین، مقامی انسانی حقوق کی تنظیموں کے ساتھ مل کر، شفاف اپ ڈیٹس کا مطالبہ کر رہے ہیں کیونکہ پریسہینا میں ڈی این اے نکالنے اور شناخت کے عمل کو آگے بڑھایا جا رہا ہے۔
