خیبر پختونخوا اسمبلی نے قانون سازوں کی مراعات سے متعلق متنازعہ قانون میں باضابطہ طور پر ترامیم منظور کر لی ہیں، جس کے تحت اراکین اسمبلی کے لیے تاحیات بلیو پاسپورٹ کی سہولت ختم کر دی گئی ہے۔ یہ فیصلہ صوبے کو درپیش معاشی چیلنجز اور عوامی دباؤ کے پیش نظر کیا گیا ہے۔

KP lawmakers privileges میں اہم تبدیلیاں

منظور شدہ ترامیم کے بعد KP lawmakers privileges میں نمایاں کمی کی گئی ہے۔ تاحیات بلیو پاسپورٹ کی سہولت ختم کرنے کے ساتھ ساتھ، اراکین اسمبلی کے لیے تاحیات اسلحہ لائسنس کی تعداد بھی محدود کر دی گئی ہے۔ اب ایک رکن اسمبلی زیادہ سے زیادہ چار اسلحہ لائسنس رکھ سکے گا، جو کہ سابقہ مراعات کے مقابلے میں ایک بڑی کٹوتی ہے۔

ان ترامیم کا مقصد عوامی تنقید کا جواب دینا ہے، جس میں یہ کہا جا رہا تھا کہ عوامی نمائندے اپنے ذاتی فائدے کو عوامی مسائل پر ترجیح دے رہے ہیں۔ ان مراعات میں کمی کے ذریعے اسمبلی نے حکومتی سطح پر جاری کفایت شعاری کے اقدامات کے ساتھ ہم آہنگی پیدا کرنے کی کوشش کی ہے۔

ہزارہ کے معاملے پر اسمبلی کا موقف

قانون سازی کے علاوہ، اسمبلی نے ایک قرارداد بھی منظور کی جس میں وفاقی حکومت کی جانب سے ہزارہ کے علاقوں کے 'تجویز کردہ قبضے' کی مزاحمت کا عزم کیا گیا ہے۔ ایوان نے اسلام آباد کی جانب سے کسی بھی انتظامی یا علاقائی تبدیلی کی شدید مخالفت کی ہے، جس سے پشاور اور وفاقی حکومت کے درمیان آئینی کشیدگی کا خدشہ پیدا ہو گیا ہے۔

عوام کے لیے اس کا مطلب کیا ہے؟

خیبر پختونخوا کے عام شہریوں کے لیے یہ ترامیم شفافیت کی جانب ایک علامتی قدم ہیں۔ اگرچہ ان تبدیلیوں کا براہ راست تعلق مہنگائی یا روزمرہ کے اخراجات سے نہیں ہے، لیکن یہ اس بات کا اشارہ ہے کہ صوبائی اسمبلی عوامی رائے کے سامنے جوابدہ ہونے کی کوشش کر رہی ہے۔

آگے کیا ہونے والا ہے؟

آئندہ دنوں میں یہ دیکھنا اہم ہوگا کہ وفاقی حکومت ہزارہ کے معاملے پر اسمبلی کی قرارداد پر کیا ردعمل دیتی ہے۔ مزید برآں، یہ بھی مشاہدہ کرنا ہوگا کہ آیا دیگر صوبائی اسمبلیاں بھی اپنی مراعات کے قانون پر نظرثانی کرتی ہیں۔ اگر آپ ان قوانین کے نفاذ کو ٹریک کرنا چاہتے ہیں، تو خیبر پختونخوا اسمبلی کی سرکاری ویب سائٹ (pakp.gov.pk) پر باضابطہ گزٹ نوٹیفکیشن جاری ہونے کے بعد اپڈیٹ شدہ قوانین دیکھے جا سکتے ہیں۔