خیبر پختونخوا کے وزیر اعلیٰ سہیل آفریدی نے 27 ستمبر 2026 کو وفاقی دارالحکومت اسلام آباد کی جانب ایک بڑے سیاسی مارچ کا باضابطہ اعلان کر دیا ہے۔ یہ اہم فیصلہ ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب صوبائی اور وفاقی حکومتوں کے درمیان کشیدگی میں مسلسل اضافہ ہو رہا ہے۔ وزیر اعلیٰ کی جانب سے اس احتجاج کی کال کے بعد سیاسی حلقوں میں ہلچل مچ گئی ہے اور انتظامیہ بھی ممکنہ صورتحال سے نمٹنے کی تیاری کر رہی ہے۔

اپنے بیان میں وزیراعلیٰ سہیل آفریدی نے دوٹوک الفاظ میں مطالبہ کیا کہ بانی پی ٹی آئی عمران خان اور بشریٰ بی بی کو فوری طور پر ان کے اہل خانہ اور ذاتی معالج سے ملاقات کی اجازت دی جائے۔ صوبائی حکومت کا موقف ہے کہ قیدیوں کے بنیادی حقوق سلب کیے جا رہے ہیں جنہیں کسی صورت برداشت نہیں کیا جائے گا۔ اس اعلان کے بعد خیبر پختونخوا کے مختلف اضلاع میں کارکنوں کو متحرک کرنے کا سلسلہ بھی شروع کر دیا گیا ہے۔

اسلام آباد مارچ کے بنیادی مطالبات

اس احتجاجی تحریک کا بنیادی محور بانی پی ٹی آئی اور ان کی اہلیہ کی صحت اور ان سے ملاقاتوں پر عائد پابندیاں ہیں۔ صوبائی قیادت کا اصرار ہے کہ قانونی ضابطوں کے مطابق فیملی اور ڈاکٹروں کو قیدیوں تک رسائی ملنی چاہیے۔

  • عمران خان اور بشریٰ بی بی سے اہل خانہ کی فوری ملاقات کا بندوبست
  • ذاتی معالجین کو طبی معائنے کے لیے رسائی دینے کا مطالبہ
  • سیاسی رہنماؤں پر عائد غیر ضروری پابندیوں کا خاتمہ

شہریوں کے لیے ہدایات اور ممکنہ اثرات

اگر آپ اسلام آباد، راولپنڈی یا پشاور کے درمیان سفر کرتے ہیں تو 27 ستمبر 2026 کے ارد گرد ٹریفک کے شدید مسائل کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے۔ سکیورٹی خدات کے پیش نظر اہم شاہراہوں پر کنٹینرز لگائے جانے اور موٹر ویز یا جی ٹی روڈ پر رکاوٹیں کھڑی کیے جانے کا قوی امکان ہے۔ مسافروں کو مشورہ دیا جاتا ہے کہ سفر سے پہلے تازہ ترین ٹریفک صورتحال ضرور جان لیں اور متبادل راستے اختیار کریں۔

آئندہ چند دنوں میں کیا متوقع ہے؟

آئندہ دو ہفتوں کے دوران وفاقی حکومت اور صوبائی انتظامیہ کے درمیان مذاکرات یا کشیدگی میں اضافے کا جائزہ لیں۔ اگر مقررہ تاریخ سے پہلے ملاقات کی اجازت دے دی جاتی ہے تو مارچ کے لائحہ عمل میں تبدیلی آ سکتی ہے۔ تازہ ترین حکومتی احکامات اور سکیورٹی الرٹس کے لیے مقامی خبروں پر نظر رکھیں تاکہ کسی بھی دشواری سے بچا جا سکے۔