خیبرپختونخوا کے وزیراعلیٰ سہیل آفریدی نے اعلان کیا ہے کہ اگر آج بانی پی ٹی آئی تک رسائی نہ دی گئی تو ملک بھر کے اہم چوکوں کو 'ڈی چوک' میں تبدیل کر دیا جائے گا۔ انہوں نے یہ سخت موقف اس وقت اختیار کیا جب بانی پی ٹی آئی سے ملاقات کے امکانات معدوم نظر آ رہے تھے۔
بانی پی ٹی آئی تک رسائی اور احتجاج کا لائحہ عمل
وزیراعلیٰ سہیل آفریدی کا کہنا ہے کہ موجودہ حالات سے واضح ہے کہ حکام بانی پی ٹی آئی سے ملاقات نہیں کروانا چاہتے۔ انہوں نے دو ٹوک الفاظ میں کہا کہ اگر آج رات 10 بجے تک ملاقات کا موقع نہ دیا گیا تو ملک بھر کے ہر شہر کے مرکزی چوک کو احتجاجی مرکز بنا دیا جائے گا۔ یہ حکمت عملی حکومت پر دباؤ بڑھانے کے لیے ترتیب دی گئی ہے۔
سیاسی کشیدگی میں اضافہ
اس اعلان کے بعد ملک بھر میں سیاسی درجہ حرارت بڑھنے کا خدشہ ہے۔ ڈی چوک اسلام آباد ماضی میں بھی پی ٹی آئی کے احتجاج کا مرکز رہا ہے، اور اب اسی طرز پر ملک گیر مظاہروں کی دھمکی دی گئی ہے۔ سیاسی مبصرین کا ماننا ہے کہ اگر یہ احتجاج عملی جامہ پہنتا ہے تو اس سے ملک بھر میں نظام زندگی بری طرح متاثر ہو سکتا ہے۔
شہریوں کے لیے ہدایات
اگر احتجاج کا سلسلہ شروع ہوتا ہے تو بڑے شہروں میں ٹریفک کی روانی شدید متاثر ہونے کا امکان ہے۔ عوام کو مشورہ دیا جاتا ہے کہ آج رات 10 بجے کے بعد شہر کے مرکزی راستوں اور چوکوں پر جانے سے گریز کریں اور مقامی انتظامیہ کی جانب سے جاری ہونے والی ٹریفک ایڈوائزری پر نظر رکھیں۔ سیکیورٹی فورسز کی جانب سے دفعہ 144 کا نفاذ بھی متوقع ہے۔
آئندہ کا لائحہ عمل
اب تمام تر نظریں وفاقی حکومت اور جیل حکام کے فیصلے پر مرکوز ہیں۔ اگر رات 10 بجے سے قبل ملاقات کی اجازت مل جاتی ہے تو ممکنہ احتجاج ٹل سکتا ہے۔ تاہم، ڈیڈ لائن گزرنے کی صورت میں ملک بھر میں احتجاجی مظاہروں کا سلسلہ شروع ہو سکتا ہے۔ تازہ ترین صورتحال جاننے کے لیے خبروں پر نظر رکھیں۔
