خیبر پختونخوا کے وزیراعلیٰ محمد سہیل آفریدی نے وفاقی حکمرانوں کو سخت انتباہ جاری کرتے ہوئے کہا ہے کہ وہ 27 ستمبر 2024 سے پہلے اپنی آنکھیں کھول لیں اور ملک کو انصاف اور آئینی بالادستی کی راہ پر گامزن کریں۔

کے پی وزیراعلیٰ کا الٹی میٹم

کے پی وزیراعلیٰ کا الٹی میٹم وفاقی حکومت کے لیے ایک واضح پیغام ہے کہ صوبائی قیادت اب مزید خاموش تماشائی نہیں رہے گی۔ پشاور سے جاری ہونے والے اس بیان میں زور دیا گیا ہے کہ موجودہ حکمران عوامی مینڈیٹ اور آئینی تقاضوں کو نظر انداز کرنے کے مرتکب ہو رہے ہیں۔ وزیراعلیٰ کے مطابق، اگر 27 ستمبر تک صورتحال میں بہتری نہ آئی تو اس کے نتائج سنگین ہو سکتے ہیں۔

آئینی بالادستی کا مطالبہ

عام پاکستانی کے لیے یہ صورتحال سیاسی غیر یقینی کا پیش خیمہ ثابت ہو سکتی ہے۔ وزیراعلیٰ کا موقف ہے کہ ملک میں قانون کی حکمرانی کا فقدان ہے اور وفاقی حکومت کو اپنی پالیسیوں پر نظر ثانی کرنی چاہیے۔ یہ بیان ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب ملک پہلے ہی معاشی دباؤ اور سیاسی کشیدگی کا شکار ہے۔

آگے کیا ہو سکتا ہے؟

27 ستمبر کی تاریخ قریب آتے ہی سیاسی درجہ حرارت میں اضافے کا امکان ہے۔ اگر وفاقی حکومت نے ان مطالبات پر کان نہ دھرا تو صوبائی حکومت کی جانب سے احتجاج یا سیاسی دباؤ بڑھانے کے مزید اقدامات متوقع ہیں۔

  • وفاقی وزارت داخلہ کے بیانات اور صوبائی تعلقات پر گہری نظر رکھیں۔
  • پشاور سے آنے والی مقامی خبروں کو فالو کریں، کیونکہ 27 ستمبر کے بعد کسی بھی عوامی احتجاج کا اعلان کیا جا سکتا ہے۔
  • سرکاری پالیسیوں میں کسی بھی تبدیلی کے لیے خیبر پختونخوا حکومت کی ویب سائٹ kp.gov.pk باقاعدگی سے چیک کریں۔

آنے والے دنوں میں سیاسی ہلچل بڑھ سکتی ہے، اس لیے شہریوں کو مشورہ دیا جاتا ہے کہ وہ حالات پر نظر رکھیں اور کسی بھی قسم کی غیر یقینی صورتحال کے لیے تیار رہیں۔