خیبرپختونخوا حکومت نے صوبے بھر کے طلباء کو جدید تعلیمی سہولیات فراہم کرنے کی غرض سے ایک جامع ڈیجیٹل تعلیمی منصوبے کا باضابطہ اعلان کر دیا ہے۔ وزیراعلیٰ سہیل آفریدی کے مطابق اس نئے اقدام کا بنیادی مقصد آنے والے دو برسوں کے دوران صوبے کی مجموعی شرح خواندگی میں 30 سے 35 فیصد تک نمایاں اضافہ کرنا ہے۔ حکومت کا یہ عزم ہے کہ پشاور اور ایبٹ آباد جیسے بڑے شہروں کے ساتھ ساتھ دور دراز کے پسماندہ اضلاع کے اسکولوں تک بھی جدید ترین ٹیکنالوجی پہنچائی جائے۔
صوبے کے دور دراز علاقوں میں بجلی کی عدم دستیابی اور انٹرنیٹ کے مسائل اس ڈیجیٹل تبدیلی کی راہ میں بڑی رکاوٹ رہے ہیں۔ محکمہ تعلیم اس بات پر غور کر رہا ہے کہ سولر انرجی سسٹمز کے ذریعے اسکولوں کو توانائی فراہم کی جائے اور ایسی ڈیجیٹل سلیٹس یا ٹیبلٹس تقسیم کیے جائیں جو انٹرنیٹ کے بغیر بھی آف لائن مواد چلا سکیں۔ اساتذہ کو بھی اس جدید نظام سے ہم آہنگ کرنے کے لیے خصوصی تربیتی سیشنز کا آغاز کیا جائے گا تاکہ وہ بچوں کو بہتر طریقے سے پڑھا سکیں۔
منصوبے کے اہم خد و خال
صوبائی حکومت کی جانب سے اس منصوبے کو عملی جامہ پہنانے کیلئے درج ذیل اقدامات اٹھائے جائیں گے:
- پسماندہ اضلاع کے سرکاری اسکولوں میں ڈیجیٹل ٹیبلٹس اور سمارٹ سکرینز کی فراہمی۔
- اسکولوں میں بجلی کے متبادل حل کے طور پر سولر پینلز کی تنصیب۔
- اساتذہ اور طلباء کی حاضری کو یقینی بنانے کیلئے ڈیجیٹل مانیٹرنگ سسٹم کا قیام۔
- مقامی آئی ٹی ماہرین کی مدد سے تعلیمی سافٹ ویئر اور نصابی مواد کو ڈیجیٹل شکل دینا۔
فنڈنگ اور درپیش چیلنجز
ماضی میں بھی اس قسم کے کئی اعلانات کیے گئے لیکن فنڈز کی کمی اور ناقص انتظامی امور کی وجہ سے وہ منصوبے کامیابی سے ہمکنار نہ ہو سکے۔ مالیاتی اداروں اور ناقدین کا کہنا ہے کہ اس منصوبے کی کامیابی کا انحصار اس بات پر ہے کہ حکومت اس کے لیے بروقت اور شفاف فنڈز جاری کرتی ہے یا نہیں۔ شفافیت اور مانیٹرنگ کے بغیر اس قسم کے بڑے منصوبے اکثر کاغذوں تک محدود رہ جاتے ہیں۔
والدین اور طلباء کیلئے ہدایات
اگر آپ کا تعلق خیبرپختونخوا سے ہے تو اپنے قریبی اسکول کی انتظامیہ سے رابطے میں رہیں اور اس بات کی معلومات حاصل کریں کہ ڈیجیٹل سہولیات آپ کے علاقے میں کب تک پہنچیں گی۔ والدین کی کمیٹیوں کو چاہیے کہ وہ مقامی تعلیمی حکام سے اس منصوبے پر عمل درآمد کے بارے میں پوچھ گچھ کریں تاکہ بچوں کو اس کا براہ راست فائدہ مل سکے۔
آئندہ کا لائحہ عمل
آنے والے مہینوں میں صوبائی بجٹ کے اندر اس منصوبے کے لیے مختص کی جانے والی رقم پر گہری نظر رکھیں۔ یہ دیکھنا اہم ہوگا کہ آیا حکومت اس ڈیجیٹل تبدیلی کو زمینی حقائق میں تبدیل کرنے میں کامیاب ہوتی ہے یا یہ محض ایک اور اعلانیہ منصوبہ بن کر رہ جاتا ہے۔
