خیبر پختونخوا حکومت نے ان تمام افواہوں کی سختی سے تردید کی ہے جن میں دعویٰ کیا جا رہا تھا کہ تحصیل غازی کو وفاقی حکومت میں شامل کر لیا گیا ہے۔ صوبائی حکومت کے ترجمان کے مطابق سوشل میڈیا پر زیر گردش نوٹیفکیشن مکمل طور پر جعلی اور من گھڑت ہے۔
تحصیل غازی کی حیثیت پر حکومتی وضاحت
گزشتہ چند دنوں سے سوشل میڈیا پر ایک دستاویز وائرل ہو رہی تھی جس میں تحصیل غازی کو وفاقی کنٹرول میں دینے کا ذکر تھا۔ صوبائی حکومت کے ترجمان شفیع جان نے واضح کیا ہے کہ صوبائی کابینہ یا وفاقی حکومت کی جانب سے ایسا کوئی فیصلہ نہیں کیا گیا اور نہ ہی کوئی باضابطہ نوٹیفکیشن جاری ہوا ہے۔ عوام سے اپیل کی گئی ہے کہ وہ ایسی بے بنیاد خبروں پر کان نہ دھریں۔
قانونی تقاضے کیا ہیں؟
کسی بھی صوبے کی جغرافیائی حیثیت یا انتظامی حدود کو تبدیل کرنا اتنا آسان نہیں ہے کہ ایک نوٹیفکیشن جاری کیا جائے۔ شفیع جان نے وضاحت کی کہ کسی بھی علاقے کی حیثیت تبدیل کرنے کے لیے آئینی ترمیم درکار ہوتی ہے، جو کہ پارلیمنٹ کے ذریعے ہی ممکن ہے۔ صرف ایک نوٹیفکیشن کے ذریعے کسی تحصیل کو صوبے سے الگ کر کے وفاق میں شامل کرنا قانونی طور پر ممکن نہیں ہے۔
- صوبائی حکومت کے ریکارڈ میں ایسا کوئی نوٹیفکیشن موجود نہیں ہے۔
- انتظامی حدود کی تبدیلی کے لیے آئینی ترمیم لازمی ہے۔
- شہریوں کو ہدایت کی گئی ہے کہ وہ صرف سرکاری ذرائع سے حاصل کردہ معلومات پر یقین کریں۔
شہریوں کے لیے ہدایت
اگر آپ تحصیل غازی یا ہری پور کے رہائشی ہیں، تو آپ کو پریشان ہونے کی ضرورت نہیں ہے۔ علاقے کا انتظامی ڈھانچہ، پولیس اور دیگر سرکاری امور بدستور خیبر پختونخوا حکومت کے ماتحت ہیں۔ جعلی دستاویزات کو آگے شیئر کرنے سے گریز کریں کیونکہ یہ معاشرے میں بلاوجہ خوف اور ابہام پیدا کرنے کا باعث بنتی ہیں۔
مستقبل میں کیا ہوگا؟
صوبائی حکومت کی جانب سے اس معاملے کی تحقیقات متوقع ہیں تاکہ یہ پتہ لگایا جا سکے کہ یہ جعلی نوٹیفکیشن کس نے اور کیوں بنایا۔ کسی بھی قسم کی سرکاری پیش رفت کے لیے وزیراعلیٰ ہاؤس یا محکمہ اطلاعات خیبر پختونخوا کے آفیشل پیجز پر نظر رکھیں۔ فی الحال، تحصیل غازی بدستور خیبر پختونخوا کا حصہ ہے اور تمام انتظامی امور پہلے کی طرح چل رہے ہیں۔
