خیبر پختونخوا حکومت نے صوبے بھر کے اسکولوں میں اساتذہ کی شدید کمی کو پورا کرنے کے لیے اے آئی پاورڈ ورچوئل ٹیچرز (AI-powered virtual teachers) کا منصوبہ شروع کر دیا ہے۔ اس منصوبے کے تحت تجربہ کار اساتذہ کے ڈیجیٹل کلونز تیار کیے گئے ہیں جو کلاس رومز میں طلباء کو لیکچر دیں گے، تاکہ جن اسکولوں میں عملے کی کمی ہے وہاں تدریسی عمل متاثر نہ ہو۔

یہ اے آئی ورچوئل اساتذہ کیسے کام کریں گے؟

اس منصوبے میں جدید آرٹیفیشل انٹیلیجنس کا استعمال کرتے ہوئے اساتذہ کے چہروں اور آوازوں کی ہو بہو نقل تیار کی گئی ہے۔ یہ ڈیجیٹل کلونز بالکل حقیقی اساتذہ کی طرح پڑھاتے ہیں، جس سے طلباء کو ایسا محسوس ہوتا ہے جیسے کوئی ماہر استاد ان کے سامنے موجود ہے۔ اس ٹیکنالوجی کا مقصد خاص طور پر ان دیہی علاقوں میں تعلیمی خلا کو پُر کرنا ہے جہاں اساتذہ کی عدم دستیابی ایک بڑا مسئلہ ہے۔

تعلیمی نظام پر اثرات

خیبر پختونخوا کے دور دراز علاقوں میں جہاں ریاضی، فزکس اور انگلش جیسے مضامین کے لیے اساتذہ نہیں ملتے، وہاں یہ ڈیجیٹل اساتذہ طلباء کے لیے ایک بہترین متبادل ثابت ہو سکتے ہیں۔ حکومت کا ماننا ہے کہ اس ٹیکنالوجی کی مدد سے تعلیمی تسلسل کو برقرار رکھا جا سکے گا اور طلباء کا تعلیمی سال ضائع ہونے سے بچ جائے گا۔

تاہم، ماہرین کا کہنا ہے کہ ڈیجیٹل ٹیکنالوجی کبھی بھی ایک حقیقی استاد کی جگہ نہیں لے سکتی۔ اس لیے اس منصوبے کو محض ایک معاون نظام کے طور پر دیکھا جانا چاہیے، نہ کہ مکمل متبادل کے طور پر۔

والدین اور طلباء کے لیے ہدایات

اگر آپ کے علاقے کے اسکول میں یہ نظام متعارف کرایا جاتا ہے تو درج ذیل باتوں کا خیال رکھیں:

  • اسکول انتظامیہ سے اس نظام کے بارے میں فیڈ بیک کے طریقے معلوم کریں۔
  • اگر طلباء کو کسی سبق میں مشکل پیش آئے تو اسکول کے موجودہ سپروائزرز سے رابطہ کریں۔
  • حکومتی ویب سائٹ پر اس منصوبے سے متعلق تازہ ترین اپ ڈیٹس پر نظر رکھیں۔

خیبر پختونخوا محکمہ تعلیم اس منصوبے کی کامیابی کے بعد اسے مزید اضلاع تک پھیلانے کا ارادہ رکھتا ہے۔ آنے والے مہینوں میں اس بات کا جائزہ لیا جائے گا کہ یہ اے آئی اساتذہ طلباء کی تعلیمی کارکردگی پر کیا اثر ڈالتے ہیں۔