خیبر پختونخوا حکومت نے صوبے میں بے روزگاری کے خاتمے اور نوجوانوں کو بااختیار بنانے کے لیے تکنیکی تعلیم ان پاکستان کو اپنی اولین ترجیحات میں شامل کر لیا ہے۔ وزیراعلیٰ کے معاون خصوصی برائے تکنیکی تعلیم، محمد عثمان بیٹانی نے 12 اگست 2026 کو انٹرنیشنل یوتھ ڈے کے موقع پر اپنے پیغام میں اس عزم کا اعادہ کیا کہ صوبے کے نوجوانوں کو جدید مہارتوں سے لیس کرنا حکومت کا مشن ہے۔

معاون خصوصی نے کہا کہ موجودہ دور میں روایتی ڈگریوں کے ساتھ ساتھ تکنیکی مہارتوں کا ہونا ناگزیر ہے تاکہ نوجوان مقامی اور بین الاقوامی مارکیٹ میں ملازمت کے مواقع حاصل کر سکیں۔ حکومت کا مقصد تعلیمی اداروں کے نصاب کو صنعتی ضروریات سے ہم آہنگ کرنا ہے۔

تکنیکی تعلیم کیوں ضروری ہے؟

خیبر پختونخوا کے بہت سے نوجوانوں کے لیے صرف روایتی تعلیم روزگار کی ضمانت نہیں دیتی۔ اسی لیے حکومت اب عملی اور پیشہ ورانہ تربیت پر توجہ مرکوز کر رہی ہے۔

  • ڈیجیٹل خواندگی، کوڈنگ اور جدید مکینیکل ٹریڈز جیسی مہارتوں پر خصوصی توجہ۔
  • صوبے بھر میں موجود ٹیکنیکل اینڈ ووکیشنل ایجوکیشن اینڈ ٹریننگ (TVET) اداروں کو جدید خطوط پر استوار کرنا۔
  • نصاب کو انڈسٹری کے معیار کے مطابق بنانا تاکہ فارغ التحصیل طلباء فوری طور پر ملازمت کے قابل ہو سکیں۔

نوجوانوں کی صلاحیتوں کو اجاگر کرنا

محمد عثمان بیٹانی نے کہا کہ نوجوان قوم کا قیمتی اثاثہ ہیں اور انہیں درست سمت فراہم کرنا ریاست کی ذمہ داری ہے۔ اگر نوجوانوں کو جدید ٹیکنالوجی سے لیس کیا جائے تو وہ نہ صرف اپنے لیے روزگار پیدا کر سکتے ہیں بلکہ ملکی معیشت میں بھی اہم کردار ادا کر سکتے ہیں۔ حکومت کی کوشش ہے کہ نوجوان سرکاری ملازمتوں پر انحصار کرنے کے بجائے خود روزگار کے مواقع تلاش کریں اور انٹرپرینیورشپ کی طرف آئیں۔

آگے کیا ہوگا؟

اگر آپ صوبے میں طالب علم ہیں یا نوکری کی تلاش میں ہیں، تو کے پی ٹیوٹا (KP-TEVTA) کے سرکاری پورٹل پر نظر رکھیں۔ توقع ہے کہ آنے والے مہینوں میں حکومت نئے سرٹیفکیٹ پروگرامز اور تکنیکی کورسز کے لیے اسکالرشپس کا اعلان کرے گی۔ آپ کو مشورہ دیا جاتا ہے کہ جدید دور کے تقاضوں کے مطابق آن لائن کام اور فری لانسنگ سے متعلق کورسز پر توجہ دیں، کیونکہ حکومت کی نئی پالیسی میں ان مہارتوں کو مرکزی حیثیت حاصل ہے۔