خیبر پختونخوا حکومت نے صوبے کو ملنے والے وفاقی فنڈز سے 6.4 ارب روپے کی ماخذ پر کٹوتی (at-source deduction) کی وفاقی تجویز کو باضابطہ طور پر مسترد کر دیا ہے، جس سے اسلام آباد اور پشاور کے درمیان مالیاتی امور پر تناؤ میں اضافہ ہو گیا ہے۔

خیبر پختونخوا وزارتِ خزانہ کے مطابق، وفاقی حکومت نے 5 اگست 2026 کو فنڈز میں براہِ راست کٹوتی کرنے کی کوشش کی۔ وزیراعلیٰ سہیل آفریدی کی انتظامیہ نے اس اقدام کے خلاف سخت مؤقف اختیار کرتے ہوئے واضح کیا کہ صوبائی حکومت نے وفاقی پول سے اس کٹوتی کی منظوری کے لیے کسی قسم کے مفاہمتنامے (MoU) پر دستخط نہیں کیے۔

ایک عام پاکستانی شہری کے لیے جو مہنگائی اور معاشی دباؤ کا سامنا کر رہا ہے، وفاق اور صوبے کے درمیان فنڈز کی اس رسہ کشی کا براہِ راست اثر مقامی ترقیاتی کاموں، صحت، تعلیم اور سرکاری ملازمین کی تنخواہوں پر پڑتا ہے۔ جب صوبائی بجٹ متاثر ہوتا ہے تو پشاور، ایبٹ آباد اور مردان جیسے شہروں میں بنیادی شہری سہولتیں بھی متاثر ہوتی ہیں۔

اسلام آباد کی تجویز اور کے پی کا ردعمل

وفاقی وزارتِ خزانہ کا مؤقف ہے کہ یہ ایڈجسٹمنٹ ملکی مالیاتی خسارے کو پورا کرنے کے لیے ضروری ہے۔ دوسری طرف صوبائی حکومت کا اصرار ہے کہ آئینی طور پر صوبائی خودمختاری کے تحت ایک طرفہ فیصلے مسلط نہیں کیے جا سکتے۔

وزیراعلیٰ سہیل آفریدی نے دوٹوک الفاظ میں کہا کہ باہمی رضامندی اور قانونی دستاویز کے بغیر مالی کٹوتی قبول نہیں کی جائے گی۔ چونکہ فنڈز کی کٹوتی کے لیے کوئی باضابطہ معاہدہ موجود نہیں ہے، اس لیے صوبہ اس کٹوتی کو غیر منصفانہ اور صوبائی حقوق کے منافی سمجھتا ہے۔

  • تنازع کی رقم: 6.4 ارب روپے
  • وفاقی اقدام کی تاریخ: 5 اگست 2026
  • کلیدی صوبائی شخصیت: وزیراعلیٰ سہیل آفریدی اور کے پی وزارتِ خزانہ
  • بنیادی مسئلہ: فنڈز کٹوتی کے لیے کسی مفاہمتنامے پر دستخط نہ ہونا

اس کا آپ کی جیب پر کیا اثر پڑے گا؟

اس طرح کے مالیاتی تنازعات صرف دفاتر تک محدود نہیں رہتے۔ جب وفاقی فنڈز میں کٹوتی ہوتی ہے تو ترقیاتی منصوبے سست پڑ جاتے ہیں یا رک جاتے ہیں۔ اگر آپ سرکاری شعبے، پبلک ٹرانسپورٹ یا سرکاری ہسپتالوں کی سہولتوں پر انحصار کرتے ہیں تو فنڈز کی کمی کا مطلب ناقص خدمات اور سرکاری ملازمین کی تنخواہوں میں تاخیر ہے۔

پہلے ہی مہنگائی اور بجلی و گیس کے بلوں نے عوام کی کمر توڑ رکھی ہے، ایسے میں مرکز اور کے پی کے درمیان مالیاتی محاذ آرائی معاشی بے یقینی کو مزید بڑھاتی ہے۔

آگے کیا دیکھنا ہوگا؟

آنے والے دنوں میں وفاقی وزارتِ خزانہ اور صوبائی حکام کے درمیان ہونے والے مذاکرات پر نظر رکھیں۔ اگر وفاق نے زبردستی کٹوتی کا سلسلہ جاری رکھا تو کے پی حکومت قانونی چارہ جوئی یا مشترکہ مفادات کونسل (CCI) سے رجوع کر سکتی ہے۔

فی الحال یہ تنازع جاری ہے اور اس کا انجام طے کرے گا کہ مستقبل میں مرکز اور صوبے کس طرح مالی بوجھ اٹھائیں گے، جس کا براہِ راست اثر آپ کے روزمرہ کے امور پر پڑے گا۔