گورنر خیبر پختونخوا فیصل کریم کنڈی نے پاکستان میں اقلیتوں کے حقوق کے تحفظ پر زور دیتے ہوئے صوبے کے فزیوتھراپسٹس کے پیشہ ورانہ خدشات کو دور کرنے کا عزم ظاہر کیا ہے۔
جمعرات 24 اکتوبر 2024 کو پشاور میں ایک اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے گورنر نے صوبائی گورننس کے لیے دو اہم نکات پر توجہ مرکوز کی، جن کا مقصد پسماندہ طبقات کے لیے شمولیت کو فروغ دینا اور صحت کے شعبے سے وابستہ پیشہ ور افراد کو ان کے مطالبات کے لیے ایک پلیٹ فارم فراہم کرنا ہے۔
پاکستان میں اقلیتوں کے حقوق کا تحفظ
گورنر کنڈی نے اعادہ کیا کہ صوبائی حکومت خیبر پختونخوا میں بسنے والی تمام اقلیتوں کے حقوق کے تحفظ کے لیے قانونی اور اخلاقی طور پر پابند ہے۔ انہوں نے کہا کہ ریاست کو اس بات کو یقینی بنانا چاہیے کہ ہر شہری، چاہے اس کا مذہبی یا نسلی پس منظر کچھ بھی ہو، صوبائی ڈھانچے میں خود کو محفوظ اور نمائندگی یافتہ محسوس کرے۔
گورنر نے اجلاس کے دوران کہا کہ "پاکستان میں اقلیتوں کے حقوق کا تحفظ صرف ایک پالیسی ہدایت نہیں بلکہ ریاست کا بنیادی فرض ہے۔" انہوں نے مقامی حکام پر زور دیا کہ وہ کسی بھی قسم کے امتیازی سلوک کے خلاف چوکنا رہیں اور صوبائی ہم آہنگی کو برقرار رکھیں۔
فزیوتھراپسٹس کے مسائل کا حل
شہری حقوق کے ساتھ ساتھ، گورنر نے صحت کے شعبے پر بھی توجہ مرکوز کی اور فزیوتھراپسٹس کو درپیش مشکلات کا ذکر کیا۔ صوبے میں کئی طبی ماہرین طویل عرصے سے سرکاری ہسپتالوں میں مناسب سہولیات کے فقدان اور پیشہ ورانہ شناخت نہ ملنے کی شکایت کر رہے ہیں۔
- گورنر نے فزیوتھراپسٹس کے وفد کو یقین دلایا کہ ان کے پیشہ ورانہ تحفظات کا جائزہ محکمہ صحت کے ذریعے لیا جائے گا۔
- انہوں نے بحالی کے عملے کے لیے کام کے بہتر حالات کو یقینی بنانے کا وعدہ کیا۔
- انتظامیہ کا مقصد فزیوتھراپی کو پرائمری ہیلتھ کیئر نیٹ ورک میں بہتر طور پر ضم کرنا ہے تاکہ مریضوں کو خصوصی دیکھ بھال تک رسائی حاصل ہو۔
آگے کیا ہوگا؟
صحت کے شعبے سے وابستہ افراد کے لیے آنے والے چند ہفتے اہم ہوں گے۔ آپ کو ان پیشہ ورانہ شکایات کے جائزے کے لیے قائم ہونے والی کمیٹی کے حوالے سے صوبائی حکومت کے سرکاری اعلانات پر نظر رکھنی چاہیے۔ اگر آپ ایک پریکٹیشنر ہیں، تو بہتر ہے کہ اپنی اسناد کو اپ ڈیٹ رکھیں اور محکمہ صحت کی ویب سائٹ کو دیکھتے رہیں تاکہ بحالی کے طبی معیارات کے حوالے سے کسی بھی نئی پالیسی یا بھرتی کے عمل سے باخبر رہ سکیں۔
جیسے جیسے گورنر کا دفتر ان وعدوں پر عمل درآمد شروع کرے گا، عوام کو ان پالیسی اقدامات پر نظر رکھنی چاہیے، جیسے اقلیتی بہبود کے پروگراموں کے لیے فنڈز کی مختص یا بحالی کے ماہرین کی بھرتی کے لیے محکمہ صحت کی پالیسیوں میں ساختی تبدیلیاں۔
