گورنر خیبر پختونخوا فیصل کریم کنڈی نے باضابطہ طور پر سلیمان خیل قبیلے کے دیرینہ مطالبات کو حل کرنے کا عزم ظاہر کیا ہے اور وعدہ کیا ہے کہ وہ ان کے خدشات کو صوبائی حکومت اور متعلقہ حکام تک پہنچائیں گے۔

سلیمان خیل قبائلی عمائدین کے ساتھ ملاقات

ہفتہ 12 اکتوبر 2024 کو لوئر وزیرستان سے تعلق رکھنے والے سلیمان خیل قبیلے کے عمائدین کے ایک وفد نے پشاور میں گورنر فیصل کریم کنڈی سے ملاقات کی اور مطالبات کی ایک فہرست پیش کی۔ اس ملاقات میں سلیمان خیل قبائلی مطالبات پر توجہ مرکوز کی گئی، جن میں بنیادی ڈھانچے کی ترقی، صحت کی بہتر سہولیات، اور علاقے میں ضروری خدمات کی بحالی شامل ہے۔ عمائدین نے نشاندہی کی کہ یہ دیرینہ مسائل ان کی کمیونٹی کی سماجی و اقتصادی ترقی میں رکاوٹ بنے ہوئے ہیں۔

گورنر کنڈی نے ضم شدہ اضلاع کے رہائشیوں کو درپیش چیلنجز کا اعتراف کیا۔ انہوں نے وفد کو یقین دلایا کہ وہ ان مسائل کو صوبائی حکام کے سامنے اٹھائیں گے تاکہ جلد از جلد حل ممکن ہو سکے۔ گورنر نے ملاقات کے دوران کہا، "قبائلی اضلاع کی ترقی ہماری اولین ترجیح ہے اور ہم اس بات کو یقینی بنانے کے لیے پرعزم ہیں کہ لوئر وزیرستان کے عوام کے حقوق کا تحفظ کیا جائے۔"

مقامی انفراسٹرکچر کے چیلنجز سے نمٹنا

سلیمان خیل وفد نے اس بات پر زور دیا کہ ان کا علاقہ کافی حد تک پسماندہ ہے، جہاں پختہ سڑکوں، بجلی کی مستقل فراہمی اور تعلیمی اداروں کی کمی ہے۔ ان بنیادی سہولیات کے فقدان نے مقامی آبادی کے لیے مشکلات پیدا کر رکھی ہیں۔ ان مطالبات کو براہ راست گورنر کے دفتر تک پہنچا کر عمائدین کا مقصد انتظامی نگرانی کو تیز کرنا اور زیر التواء منصوبوں کے لیے فنڈز کا حصول ہے۔

گورنر کنڈی نے کہا کہ وہ صوبائی محکموں کے ساتھ مل کر نامکمل منصوبوں کی حیثیت کا جائزہ لیں گے اور ان منصوبوں کو ترجیح دیں گے جو قبائلی رہائشیوں کی روزمرہ زندگی پر اثر انداز ہوتے ہیں۔ انہوں نے ذکر کیا کہ صوبائی حکومت انتظامیہ اور قبائلی علاقوں کے درمیان خلیج کو کم کرنے کے لیے کوشاں ہے۔

مستقبل میں کیا توقع رکھی جائے

اگرچہ گورنر کی طرف سے دی گئی یقین دہانی امید کی ایک کرن ہے، لیکن مقامی آبادی کے لیے اصل تشویش ان وعدوں پر عمل درآمد ہے۔ آگے بڑھتے ہوئے، کمیونٹی درج ذیل چیزوں پر نظر رکھے گی:

  • مطالبات کی پیش رفت پر نظر رکھنے کے لیے ایک مانیٹرنگ کمیٹی کا قیام۔
  • لوئر وزیرستان میں انفراسٹرکچر کے منصوبوں کے آغاز کے لیے ٹائم لائن۔
  • بجٹ مختص کرنے کو حتمی شکل دینے کے لیے صوبائی وزراء اور قبائلی قیادت کے درمیان مزید ملاقاتیں۔

جیسے جیسے صورتحال آگے بڑھے گی، ہم اس بات پر نظر رکھیں گے کہ کیا یہ انتظامی یقین دہانیاں زمینی حقائق میں تبدیل ہوتی ہیں یا نہیں۔ فی الحال، وفد کو توقع ہے کہ آنے والے ہفتوں میں صوبائی حکومت کی جانب سے اٹھائے گئے ابتدائی اقدامات کا جائزہ لینے کے لیے ایک فالو اپ میٹنگ طے کی جائے گی۔