خیبر پختونخوا کے وزیر قانون و پارلیمانی امور آفتاب عالم ایڈووکیٹ نے صوبائی عدالتوں میں زیر التوا رٹ پٹیشنز کی قانونی حیثیت کا باقاعدہ جائزہ لینے کا عمل شروع کر دیا ہے۔ اس انتظامی اقدام کا مقصد صوبائی حکومت کے قانونی معاملات کو نمٹانے کے عمل کو تیز کرنا اور عدالتوں میں حکومت کا موقف مؤثر طریقے سے پیش کرنا ہے۔
رٹ پٹیشنز کے جائزے کا عمل
منگل 20 مئی 2025 کو وزیر قانون آفتاب عالم نے بذریعہ زوم ایک اہم اجلاس کی صدارت کی جس میں صوبائی سطح پر زیر التوا رٹ پٹیشنز کی موجودہ صورتحال کا تفصیلی جائزہ لیا گیا۔ اجلاس کے دوران اس بات پر زور دیا گیا کہ طویل عرصے سے التوا کا شکار قانونی فائلوں کو نمٹانے کے لیے قانونی ٹیموں کے ساتھ بہتر رابطہ کاری کی ضرورت ہے۔ یہ اقدام صوبائی حکومت کے قانونی ونگ کی کارکردگی کو بہتر بنانے کے لیے اٹھایا گیا ہے۔
صوبائی حکومت اور قانونی معاملات
عام شہری کے لیے، صوبائی قانونی محکمے کی کارکردگی براہ راست عوامی خدمات پر اثر انداز ہوتی ہے۔ جب سرکاری محکموں، عوامی سہولیات یا انتظامی پالیسیوں سے متعلق مقدمات عدالتوں میں پھنسے رہتے ہیں، تو اکثر ترقیاتی کام تعطل کا شکار ہو جاتے ہیں۔ وزیر قانون کی جانب سے اس جائزے کا مقصد عدالتوں پر بوجھ کم کرنا اور سرکاری مقدمات میں تاخیر کو ختم کرنا ہے۔
اجلاس کے دوران درج ذیل امور کا جائزہ لیا گیا:
- حکومت کے خلاف زیر التوا رٹ پٹیشنز کی تعداد۔
- مختلف صوبائی محکموں کی جانب سے عدالتوں میں جمع کرائے جانے والے جوابات کی حیثیت۔
- عدالتوں میں بار بار التواء کا باعث بننے والی وجوہات کو حل کرنے کی حکمت عملی۔
مستقبل میں کیا توقع رکھی جائے
جیسا کہ محکمہ قانون و پارلیمانی امور نے اس جائزے کا عمل شروع کیا ہے، توقع کی جا رہی ہے کہ آنے والے دنوں میں زیر التوا مقدمات کی تعداد میں کمی آئے گی۔ اگر یہ کوشش کامیاب رہتی ہے، تو اس سے صوبے میں حکومتی پالیسیوں پر عمل درآمد تیز ہو سکے گا اور قانونی نظام میں بہتری آئے گی۔ شہریوں کو چاہیے کہ وہ صوبائی حکومت کی جانب سے جاری کردہ قانونی اپ ڈیٹس پر نظر رکھیں، کیونکہ ان فیصلوں کا براہ راست اثر سرکاری محکموں کی فعالیت پر پڑے گا۔ یہ جائزہ ایک مسلسل عمل ہونے کی توقع ہے جس کے تحت قانونی ٹیموں کی کارکردگی کی باقاعدگی سے نگرانی کی جائے گی۔
