خیبر پختونخوا میں کے پی بورڈ کے نتائج کے اعلان کے بعد صوبائی وزیر برائے ایلیمنٹری اینڈ سیکنڈری ایجوکیشن ارشد ایوب خان نے نمایاں پوزیشن حاصل کرنے والے طلباء کو سراہا ہے، تاہم انہوں نے امتحانی مراکز میں نقل کے بڑھتے ہوئے رجحان پر تشویش کا اظہار کرتے ہوئے سخت کارروائی کا اعلان کیا ہے۔ جمعرات 24 اکتوبر 2024 کو منعقدہ ایک تقریب کے دوران وزیر تعلیم نے کہا کہ نقل کا خاتمہ ان کی اولین ترجیح ہے۔

نقل مافیا کے خلاف سخت اقدامات

ارشد ایوب خان نے واضح کیا کہ امتحانات میں نقل کا عنصر تعلیمی معیار کو تباہ کر رہا ہے اور محنتی طلباء کے حق تلفی کا باعث بن رہا ہے۔ انہوں نے اعلان کیا کہ صوبے بھر کے تعلیمی بورڈز میں نقل روکنے کے لیے جدید ٹیکنالوجی اور سخت نگرانی کا نظام متعارف کرایا جائے گا۔ اس اقدام کا مقصد امتحانی عمل کو شفاف بنانا ہے تاکہ ڈگریوں کی ساکھ کو بحال کیا جا سکے۔

طلباء اور والدین کو اب امتحانی مراکز میں سخت نگرانی کے لیے تیار رہنا چاہیے۔ محکمہ تعلیم کے مطابق، نگران عملے کی تعیناتی کے عمل کو مزید شفاف بنایا جائے گا اور کسی بھی قسم کی غفلت برتنے والے عملے کے خلاف سخت تادیبی کارروائی عمل میں لائی جائے گی۔

طلباء کے لیے ہدایات

اگر آپ میٹرک یا نویں جماعت کے طالب علم ہیں، تو آپ کو اپنی تیاریوں پر توجہ مرکوز کرنے کی ضرورت ہے۔ حکومت کی جانب سے امتحانی مراکز میں سی سی ٹی وی کیمروں کی تنصیب اور سخت سیکیورٹی کے انتظامات کا جائزہ لیا جا رہا ہے۔

  • شفاف امتحانات: تمام امتحانی مراکز میں نقل کی روک تھام کے لیے خصوصی ٹیمیں تشکیل دی جائیں گی۔
  • تعلیمی پالیسی: نقل میں ملوث پائے جانے والے طلباء اور عملے کے خلاف سخت قانونی کارروائی کی جائے گی۔
  • میرٹ کا فروغ: آئندہ سالوں میں تعلیمی وظائف اور حکومتی انعامات صرف میرٹ پر مبنی کارکردگی پر دیے جائیں گے۔

مستقبل کا لائحہ عمل

محکمہ تعلیم کی جانب سے جلد ہی امتحانی ضابطہ اخلاق میں تبدیلیوں کا باقاعدہ نوٹیفکیشن جاری کیا جائے گا۔ طلباء کو مشورہ دیا جاتا ہے کہ وہ اپنے متعلقہ تعلیمی بورڈز (پشاور، مردان، سوات، وغیرہ) کی آفیشل ویب سائٹس پر نظر رکھیں تاکہ کسی بھی نئی پالیسی سے بروقت آگاہی حاصل ہو سکے۔ وزیر تعلیم نے اس عزم کا اظہار کیا ہے کہ آنے والے امتحانی سیشنز میں نقل کی گنجائش کو مکمل طور پر ختم کر دیا جائے گا تاکہ صوبے کے تعلیمی نظام کا وقار بحال ہو سکے۔