پشاور میں آج ایک اعلیٰ سطحی اجلاس کے دوران KP-RIISP project progress کا تفصیلی جائزہ لیا گیا، جس میں خیبر پختونخوا کے وزیر برائے پبلک ہیلتھ انجینئرنگ فضل شکور خان اور عالمی بینک کے وفد نے شرکت کی۔ یہ اجلاس صوبے کے آبپاشی کے نظام اور بنیادی ڈھانچے کو بہتر بنانے کے لیے شروع کیے گئے اس اہم پروگرام کی رفتار کو تیز کرنے کے لیے بلایا گیا تھا۔
منصوبے کی پیشرفت کا جائزہ
اجلاس کے دوران وزیر نے عالمی بینک کے وفد کے ساتھ منصوبے کے موجودہ مراحل پر تبادلہ خیال کیا۔ KP-RIISP کا بنیادی مقصد صوبے کے آبپاشی کے انفراسٹرکچر کو جدید بنانا ہے، جو زراعت کے شعبے کے لیے انتہائی اہم ہے۔ دونوں فریقین نے اس بات پر اتفاق کیا کہ فنڈز کا درست استعمال اور بروقت تکمیل ہی اس منصوبے کی کامیابی کی ضمانت ہے۔
مقامی آبادی پر اثرات
صوبے کے رہائشیوں کے لیے اس منصوبے کی تکمیل کا مطلب زرعی زمینوں تک پانی کی بہتر فراہمی اور آبپاشی کے ضیاع میں کمی ہے۔ صوبائی حکومت اس بات پر زور دے رہی ہے کہ دیہی معیشت کو سہارا دینے کے لیے ان منصوبوں کی بروقت تکمیل ناگزیر ہے۔ عالمی بینک کے وفد نے منصوبے کے تکنیکی پہلوؤں پر اپنی رائے دی تاکہ بین الاقوامی معیار کے مطابق تعمیرات کو یقینی بنایا جا سکے۔
مستقبل کے اقدامات
محکمہ اب ان تمام رکاوٹوں کو دور کرنے پر توجہ مرکوز کرے گا جو منصوبے کی رفتار کو سست کر رہی ہیں۔ وزیر نے متعلقہ حکام کو ہدایت کی ہے کہ عالمی بینک کی تجاویز کی روشنی میں کام کو مزید تیز کیا جائے۔ جو شہری اس منصوبے یا صوبائی ترقیاتی کاموں کے بارے میں مزید تفصیلات جاننا چاہتے ہیں، وہ محکمہ پبلک ہیلتھ انجینئرنگ خیبر پختونخوا کی آفیشل ویب سائٹ دیکھ سکتے ہیں۔
