خیبر پختونخوا حکومت نے صوبے بھر میں 1.7 ملین یعنی سترہ لاکھ پودے لگا کر اپنی تازہ ترین ماحولیاتی مہم کا باضابطہ آغاز کر دیا ہے۔ جمعرات کے روز یومِ آزادی کی تقریبات کے ساتھ کے پی شجر کاری کی کوششوں کو تیز کرتے ہوئے صوبائی انتظامیہ نے ملک کے طویل مدتی ماحولیاتی تحفظ پر توجہ مرکوز کرنے کا عزم ظاہر کیا۔

وزیر اعلیٰ محمد سہیل آفریدی نے اس مہم کی قیادت کرتے ہوئے اس بات پر زور دیا کہ حکومت نے روایتی تہواروں پر سرکاری وسائل ضائع کرنے کے بجائے براہِ راست ملک کے ماحولیاتی مستقبل میں سرمایہ کاری کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔ اس شجر کاری مہم کا ہدف خیبر پختونخوا بھر کے ماحولیاتی لحاظ سے حساس زونز، شہری علاقوں کے کناروں اور کٹا کا شکار جنگلات کو بنانا ہے۔

موسمیاتی لچک کی طرف تبدیلی

اس موقع پر گفتگو کرتے ہوئے وزیر اعلیٰ نے پودے لگانے کی اس بڑی مہم کو براہِ راست مضبوط موسمیاتی لچک پیدا کرنے سے جوڑا۔ پاکستان موسمیاتی تبدیلیوں، اچانک سیلاب اور مون سون کے بے قاعدہ سلسلوں سے سب سے زیادہ متاثر ہونے والے ممالک میں شامل ہے۔ صوبائی حکام کا کہنا ہے کہ زمین کے کٹاؤ اور بڑھتے ہوئے درجہ حرارت کے خلاف جنگلات کا رقبہ بڑھانا سب سے موثر قدرتی دفاع ہے۔

جنگلات کے محکمے کو جیو ٹیگنگ اور کمیونٹی کی بنیاد پر نگرانی کے ذریعے نئے لگائے جانے والے پودوں کی بقا کی شرح کو یقینی بنانے کی ذمہ داری سونپی گئی ہے۔ جمعرات کے روز عام شہریوں، طلباء اور مقامی رضاکاروں نے ضلعی انتظامیہ کے ساتھ مل کر پبلک پارکس، تعلیمی اداروں اور سڑکوں کے کناروں پر درخت لگائے۔

آپ اس مہم میں کیا کردار ادا کر سکتے ہیں

اگر آپ صوبے کے ماحولیاتی اہداف میں حصہ ڈالنا چاہتے ہیں، تو مقامی ضلعی دفاتر اور محکمہ جنگلات رہائشیوں کو مفت پودے تقسیم کر رہے ہیں۔ آپ اپنے مقامی موسم کے مطابق پودے حاصل کرنے کے لیے اپنے قریبی تحصیل میونسپل آفس یا ضلعی جنگلات کے ہیڈ کوارٹر کا دورہ کر سکتے ہیں۔ اپنے محلے میں مقامی نسل کے پودے لگانا ہوا کے معیار اور گرمی کی شدت کو کم کرنے میں مددگار ثابت ہو سکتا ہے۔

آگے کیا دیکھنے کی ضرورت ہے

ماحولیاتی ادارے اور شہری اس بات کا قریب سے جائزہ لیں گے کہ آیا صوبائی انتظامیہ شجر کاری کے بعد کی کوئی جامع رپورٹ جاری کرتی ہے۔ پاکستان بھر میں ماضی کی سبز مہمات کو پانی کی فراہمی اور مناسب دیکھ بھال نہ ہونے کی وجہ سے پودوں کی کم شرحِ بقا کا سامنا کرنا پڑا ہے۔ سترہ لاکھ درختوں کی اس مہم کی کامیابی آنے والے مہینوں میں شفاف نگرانی اور کمیونٹی کے تعاون پر منحصر ہوگی۔