خیبرپختونخوا میں پانچ روز کے دوران شدید بارشوں اور سیلابی ریلوں کے باعث خواتین اور بچوں سمیت 26 افراد جاں بحق ہو چکے ہیں۔ مسلسل بارش کی وجہ سے صوبے کے مختلف اضلاع میں بڑے پیمانے پر تباہی مچی ہے جبکہ انتظامیہ متاثرہ علاقوں تک امداد پہنچانے کے لیے کوشاں ہے۔
پرووینشل ڈیزاسٹر مینجمنٹ اتھارٹی (پی ڈی ایم اے) کی جانب سے جاری کردہ تازہ اعداد و شمار کے مطابق، اس خراب موسم کے دوران جانی نقصان کے علاوہ املاک کو بھی شدید نقصان پہنچا۔ اگر آپ خیبرپختونخوا کے کسی ایسے علاقے میں مقیم ہیں جہاں بارشوں کا زور زیادہ ہے، تو آپ کو فوری طور پر احتیاطی تدابیر اختیار کرنے کی ضرورت ہے۔
نقصانات اور املاک کی تباہی کا تخمینہ
پانچ روزہ بارشوں کے اس سلسلے نے صوبے کے مختلف حصوں میں رہائشی ڈھانچے کو بری طرح متاثر کیا ہے۔ پی ڈی ایم اے کے اعداد و شمار سے یہ بات سامنے آئی ہے کہ اس عرصے کے دوران مجموعی طور پر 65 مکانات متاثر ہوئے ہیں۔ ان میں سے 41 گھروں کو جزوی نقصان پہنچا جبکہ 24 مکانات مکمل طور پر منہدم ہو چکے ہیں۔
امدادی ٹیمیں اور مقامی رضاکار ملبے سے لاشوں اور زخمیوں کو نکالنے کے لیے دن رات مصروف ہیں۔ تاہم پہاڑی علاقوں میں سڑکیں بند ہونے اور پلوں کے ٹوٹنے کی وجہ سے دور دراز وادیوں میں امدادی کارروائیوں میں مشکلات کا سامنا ہے۔
اس وقت آپ کو کیا کرنا چاہیے؟
اگر آپ خیبرپختونخوا میں رہتے ہیں، بالخصوص ندی نالوں، دریاؤں کے کناروں یا پہاڑی تودے گرنے کے خطرے سے دوچار علاقوں میں، تو فوری طور پر ان ہدایات پر عمل کریں:
- ایسے پرانے یا کچے مکانات سے فوری منتقل ہو جائیں جو بارش کی وجہ سے کمزور ہو چکے ہیں۔
- پینے کا پانی، ضروری ادویات اور ہنگامی سامان ہمیشہ اپنے پاس تیار رکھیں۔
- پہاڑی راستوں اور شاہراہوں پر بلاوجہ سفر کرنے سے گریز کریں جہاں لینڈ سلائیڈنگ کا خطرہ ہو۔
- اپنے موبائل فون چارج رکھیں اور سرکاری اداروں کی جانب سے جاری کردہ موسمی انتباہات پر نظر رکھیں۔
آگے کیا توقع کی جائے؟
محکمہ موسمیات کے حکام اس بات کا جائزہ لے رہے ہیں کہ بارشوں کا یہ سلسلہ مزید کتنے دن جاری رہے گا۔ آپ کو پی ڈی ایم اے کی جانب سے ریلیف کیمپوں کے قیام اور متاثرہ خاندانوں کے لیے امدادی پیکج کے اعلانات پر نظر رکھنی چاہیے۔ متوقع طور پر اگلے 48 گھنٹوں کے دوران اضلاع کی سطح پر نقصانات کی تفصیلی رپورٹ جاری کی جائے گی۔
