خیبر پختونخوا حکومت نے صوبے میں پینے کے پانی کے معیار کو بہتر بنانے کے لیے ایک جدید 'واٹر کوالٹی مینجمنٹ انفارمیشن سسٹم' (WQ-MIS) کا افتتاح کر دیا ہے۔ صوبائی وزیر برائے پبلک ہیلتھ انجینئرنگ، فضل شکور خان نے بدھ 23 اکتوبر 2024 کو اس ڈیجیٹل نظام کا باقاعدہ آغاز کیا، جس کا مقصد پانی کی فراہمی کے نظام میں شفافیت اور بروقت نگرانی کو یقینی بنانا ہے۔
واٹر کوالٹی مینجمنٹ انفارمیشن سسٹم کی افادیت
یہ منصوبہ کورین حکومت اور اقوام متحدہ کے ادارے UNOPS کے تعاون سے مکمل کیا گیا ہے۔ اس اپ گریڈ شدہ نظام کے ذریعے، محکمہ پبلک ہیلتھ انجینئرنگ اب پانی کے ٹیسٹ کے نتائج اور فلٹریشن پلانٹس کی کارکردگی کو ڈیجیٹل طریقے سے مانیٹر کرے گا۔ پرانے دستی ریکارڈ رکھنے کے نظام کے برعکس، اب ڈیٹا فوری طور پر متعلقہ حکام تک پہنچ سکے گا، جس سے آلودہ پانی کی نشاندہی اور اس کے تدارک میں مدد ملے گی۔
عوامی صحت اور آپ کے لیے اہمیت
صوبے کے کئی اضلاع میں پانی سے پھیلنے والی بیماریاں ایک بڑا چیلنج ہیں۔ یہ نیا نظام ضلعی سطح پر پانی کے معیار کے ڈیٹا کو مرکزی سطح پر یکجا کرے گا۔ اس سے نہ صرف فلٹریشن پلانٹس کی دیکھ بھال بہتر ہوگی بلکہ عوام کو ملنے والے پانی کے معیار میں بہتری کی توقع بھی کی جا سکتی ہے۔
شہریوں کے لیے ہدایات
اگر آپ کے علاقے میں پانی کی فراہمی ناقص ہے یا فلٹریشن پلانٹ خراب ہے، تو آپ کو مقامی پبلک ہیلتھ انجینئرنگ کے دفتر میں اپنی شکایات درج کروانے کا عمل جاری رکھنا چاہیے۔ اس نئے سسٹم کے تحت محکمہ مزید بہتر طریقے سے شکایات کا ازالہ کرنے کا پابند ہوگا۔ آپ تازہ ترین معلومات کے لیے محکمہ پبلک ہیلتھ انجینئرنگ خیبر پختونخوا کی ویب سائٹ پر نظر رکھ سکتے ہیں۔
مستقبل میں کیا توقع رکھیں؟
آنے والے مہینوں میں یہ دیکھنا اہم ہوگا کہ آیا یہ ڈیجیٹل تبدیلی زمینی حقائق میں کتنی بہتری لاتی ہے۔ اس منصوبے کی کامیابی کا دارومدار اس بات پر ہے کہ آیا سرکاری ہسپتالوں میں پانی سے پیدا ہونے والی بیماریوں کے کیسز میں کمی آتی ہے یا نہیں۔ امید ہے کہ مستقبل میں محکمہ عوام کے لیے کوئی ایسا ڈیش بورڈ متعارف کرائے گا جہاں سے شہری اپنے علاقوں کے پانی کے معیار کی صورتحال براہ راست دیکھ سکیں گے۔
