پنجاب اور خیبر پختونخوا کے اعلیٰ حکام نے خواتین کے سماجی تحفظ کے حوالے سے باہمی تعاون کو فروغ دینے کے لیے پشاور میں ایک اہم ملاقات کی۔ اس اجلاس کا مقصد دونوں صوبوں میں خواتین کی فلاح و بہبود کے لیے جاری اقدامات کو مربوط بنانا اور پسماندہ طبقے کی بہتری کے لیے لائحہ عمل تیار کرنا تھا۔

کے پی سی ایس ڈبلیو کا دورہ

پنجاب سوشل پروٹیکشن اتھارٹی (PSPA) کی چیئرپرسن جہان آرا وٹو اور ڈائریکٹر جنرل پیمرا عائشہ وٹو نے خیبر پختونخوا کمیشن آن دی اسٹیٹس آف ویمن (KPCSW) کے دفتر کا دورہ کیا۔ انہوں نے کے پی سی ایس ڈبلیو کی چیئرپرسن ڈاکٹر رفعت سردار اور دیگر سینئر حکام سے تفصیلی ملاقات کی۔

ملاقات میں صوبائی حدود سے بالاتر ہو کر خواتین کے لیے فلاحی سکیموں کے دائرہ کار کو بڑھانے اور ان کے نفاذ کو بہتر بنانے پر بات چیت کی گئی۔ دونوں اطراف نے موجودہ پالیسی فریم ورک کا جائزہ لیا تاکہ باہمی تعاون کے ذریعے مستحق خواتین کو زیادہ سے زیادہ ریلیف فراہم کیا جا سکے۔

  • اہم شخصیات: جہان آرا وٹو (چیئرپرسن PSPA)، عائشہ وٹو (ڈی جی پیمرا)، اور ڈاکٹر رفعت سردار (چیئرپرسن KPCSW)۔
  • مقام: کے پی سی ایس ڈبلیو سیکرٹریٹ، پشاور۔
  • بنیادی ہدف: خواتین کا سماجی تحفظ اور فلاحی اقدامات کی بہتری۔

بین الصوبائی تعاون اور فلاحی حکمت عملی

وفد کا کہنا تھا کہ خواتین کا سماجی تحفظ یقینی بنانے کے لیے دونوں صوبوں کو بہترین تجربات سے فائدہ اٹھانا چاہیے۔ PSPA اور KPCSW کے نمائندوں نے مالیاتی شمولیت، ہدف شدہ سبسڈی، اور قانونی امداد کے پروگراموں پر خیالات کا تبادلہ کیا۔

حکام نے اس بات پر زور دیا کہ پالیسیوں میں ابہام کی وجہ سے دور دراز اضلاع کی خواتین تک امداد پہنچانے میں مشکلات پیش آتی ہیں۔ ڈیٹا کے تبادلے اور حکمت عملی کو یکجا کرنے سے پنجاب اور خیبر پختونخوا میں امدادی عمل کو مزید موثر بنایا جا سکے گا۔

آئندہ کے لائحہ عمل پر نظر

آنے والے مہینوں میں یہ دیکھنا ہوگا کہ دونوں صوبائی حکومتیں ان تجاویز کو عملی جامہ پہنانے کے لیے کیا اقدامات کرتی ہیں۔ مشترکہ فلاحی پورٹلز اور مانیٹرنگ کے نظام کے قیام سے ہی اس مشاورت کے اصل فوائد سامنے آئیں گے۔