کرسٹن اسٹیورٹ اور ٹوائی لائٹ (kristen stewart twilight) کے دور کی بازگشت ایک بار پھر ہالی وڈ کے حلقوں میں سنائی دے رہی ہے۔ بیلا سوان کا کردار ادا کرنے والی اداکارہ نے حال ہی میں اعتراف کیا ہے کہ اس وقت کی شہرت اور میڈیا کے دباؤ کے دوران وہ خود کو کافی 'خود پسند اور عجیب' (pretentious little loser) محسوس کرتی تھیں۔
ٹوائی لائٹ کے دور کی حقیقت
پاکستان میں موجود ٹوائی لائٹ کے مداحوں کے لیے یہ انکشاف کافی دلچسپ ہے، کیونکہ اس وقت کرسٹن اسٹیورٹ کے بارے میں میڈیا میں کئی طرح کی آراء پائی جاتی تھیں۔ اداکارہ کا کہنا ہے کہ اس وقت وہ کم عمر تھیں اور دنیا بھر کی توجہ کا مرکز بننے کے بعد انہوں نے خود کو محفوظ رکھنے کے لیے ایک خاص قسم کا رویہ اپنا لیا تھا، جسے وہ آج ایک غلطی سمجھتی ہیں۔
کرسٹن اسٹیورٹ کا اعتراف کیوں اہم ہے؟
یہ پہلا موقع نہیں ہے جب کسی بڑے اسٹار نے اپنے ماضی کے کام پر تنقیدی نظر ڈالی ہو۔ تاہم، کرسٹن کا یہ بیان اس بات کی عکاسی کرتا ہے کہ کس طرح ہالی وڈ کے بڑے پروجیکٹس نوجوان اداکاروں کی شخصیت پر اثر انداز ہوتے ہیں۔ ان کا کہنا ہے کہ وہ تب ایک 'خود پسند لوزر' تھیں، جس کا مقصد صرف میڈیا کے دباؤ سے خود کو بچانا تھا۔
- اداکارہ: کرسٹن اسٹیورٹ
- فلم سیریز: ٹوائی لائٹ ساگا
- اہم پہلو: ذاتی ارتقاء اور ماضی کے بارے میں بدلتی ہوئی سوچ
آگے کیا ہوگا؟
کرسٹن اسٹیورٹ اب آزاد فلموں اور سنجیدہ کرداروں کی طرف منتقل ہو چکی ہیں۔ مداحوں کو اب ان کی نئی اور تجرباتی فلموں پر نظر رکھنی چاہیے۔ اگر آپ ٹوائی لائٹ کے مداح ہیں، تو فی الحال پاکستان میں ان فلموں کی کوئی نئی ریلیز متوقع نہیں ہے، لیکن یہ فلمیں عالمی اسٹریمنگ پلیٹ فارمز پر دیکھی جا سکتی ہیں۔ شوبز کی دنیا میں ہونے والی ان تبدیلیوں اور اداکاروں کے بدلتے ہوئے نظریات پر نظر رکھنا اب ایک معمول بن چکا ہے۔
