بدھ کے روز پاکستان اسٹاک ایکسچینج (PSX) میں جارحانہ خریداری کے رجحان کے باعث کے ایس ای 100 انڈیکس 180,000 پوائنٹس کی حد عبور کر گیا۔ مارکیٹ میں یہ شاندار بحالی عالمی منڈی میں تیل کی گرتی ہوئی قیمتوں اور جغرافیائی سیاسی کشیدگی میں کمی کے بعد دیکھنے میں آئی۔ مقامی سرمایہ کاروں کے لیے یہ سنگ میل ایک بڑا حوصلہ افزا قدم ہے جو حالیہ مہینوں میں اتار چڑھاو کا شکار رہے۔
کراچی کے ٹریڈنگ فلورز پر صبح کے سیشن سے ہی بھاری حجم دیکھا گیا، جہاں انسٹی ٹیوشنل اور ریٹیل دونوں قسم کے سرمایہ کاروں نے مضبوط سیکٹرز میں حصص خریدے۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ عالمی سطح پر پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں کمی نے پاکستان کی درآمدی معیشت کو بڑی ریلیف دی ہے جس سے ملکی درآمدی بل میں کمی کی توقع ہے۔
KSE-100 انڈیکس میں تیزی کی اصل وجوہات کیا تھیں؟
اس تیزی کے پیچھے کئی اہم معاشی عوامل کارفرما ہیں جن کی تفصیل درج ذیل ہے:
- عالمی مارکیٹ میں تیل کی قیمتوں میں کمی سے کرنٹ اکاؤنٹ خسارے پر دباؤ میں کمی۔
- بین الاقوامی سطح پر سیاسی تناؤ میں کمی، جس سے سرمایہ کاروں کا اعتماد بحال ہوا۔
- انرجی، کمرشل بینکنگ اور فرٹیلائزر کے بڑے حصص میں وسیع پیمانے پر خریداری۔
- مقامی سرمائے کی مارکیٹ میں واپسی۔
اس طرح کے جارحانہ رجحانات عام طور پر درمیانی مدت کے معاشی نقطہ نظر پر اعتماد کا اظہار کرتے ہیں، خصوصاً جب اسٹیٹ بینک آف پاکستان کے پاس زرمبادلہ کے ذخائر مستحکم ہوں۔ سیمنٹ اور آٹوموبائل کے شعبوں میں بھی اچھی سرگرمی دیکھی گئی۔
ایک عام سرمایہ کار کے طور پر آپ کو کیا کرنا چاہیے؟
اگر آپ اسٹاک مارکیٹ میں سرمایہ کاری کرتے ہیں تو جذباتی فیصلے کرنے سے گریز کریں۔ صرف اس لیے کہ انڈیکس 180,000 سے اوپر چلا گیا ہے، ہر مہنگے حصص کے پیچھے نہ بھاگیں۔ اپنے لائسنس یافتہ بروکر سے مشورہ کریں اور مضبوط مالیاتی پوزیشن والی کمپنیوں کے حصص پر توجہ دیں۔
آگے کیا دیکھنا ہوگا؟
آنے والے دنوں میں اسٹیٹ بینک کے شرح سود کے فیصلوں، مہنگائی کے تازہ اعداد و شمار اور عالمی منڈی میں تیل کی قیمتوں پر گہری نظر رکھیں تاکہ اندازہ ہو سکے کہ یہ تیزی آگے بھی برقرار رہتی ہے یا نہیں۔
