امریکہ اور ایران کے درمیان بڑھتی ہوئی جغرافیائی سیاسی کشیدگی کے اثرات پاکستان سٹاک ایکسچینج پر بھی واضح طور پر دکھائی دیے اور کے ایس ای 100 انڈیکس ہفتے کے اختتام پر شدید مندی کا شکار ہو گیا۔ سرمایہ کاروں نے غیر یقینی صورتحال کے پیش نظر حصص فروخت کرنے کو ترجیح دی، جس سے مارکیٹ میں نمایاں کمی ریکارڈ کی گئی اور اختتامی گھنٹی تک انڈیکس 1,325 پوائنٹس گر گیا۔
کارروائی کے آغاز سے ہی فروخت کا دباؤ غالب رہا۔ مشرق وسطیٰ کی بگڑتی ہوئی سکیورٹی صورتحال نے مقامی سرمایہ کاروں کو محتاط رہنے پر مجبور کر دیا، اور غیر ملکی فنڈز کے انخلا کے خدشات نے مارکیٹ کے اعصاب توڑ دیے۔ معاشی ماہرین کا کہنا ہے کہ یہ مندی بنیادی طور پر بیرونی حالات اور خوف کی وجہ سے ہے کیونکہ پاکستان جیسے ترقی پذیر ممالک عالمی منڈیوں کے اتار چڑھاؤ سے براہ راست متاثر ہوتے ہیں۔
سرمایہ کاروں کے لیے آئندہ کا لائحہ عمل
اگر آپ کا سرمایہ سٹاک مارکیٹ میں لگا ہوا ہے تو موجودہ حالات میں گھبرا کر فیصلے کرنے سے گریز کریں۔ پیر کے روز مارکیٹ کھلنے پر عالمی تیل کی قیمتوں، روپے کی قدر اور مشرق وسطیٰ کی صورتحال پر کڑی نظر رکھیں۔ غیر یقینی کے اس ماحول میں ماہرین طویل مدتی اور مضبوط فنڈامنٹس والے سیکٹرز میں رہنے کا مشورہ دیتے ہیں۔
