پاکستان کا کشمیر ڈسپیوٹ پر اصولی موقف بدستور برقرار ہے جس کے تحت بھارتی غیر قانونی زیر تسلط جموں و کشمیر (IIOJK) کے عوام کو مکمل سیاسی، سفارتی اور اخلاقی پشت پناہی فراہم کی جا رہی ہے۔ وفاقی اور صوبائی رہنماؤں نے بدھ کے روز یوم استحصالِ کشمیر کے موقع پر ملک بھر میں منعقدہ ریلیوں اور تقریبات میں اس عزم کا اعادہ کیا۔
تقریبات کی اہم تفصیلات درج ذیل ہیں:
- تاریخ: بدھ کا دن، یوم استحصالِ کشمیر کے موقع پر۔
- اہم شخصیات: گورنر خیبر پختونخوا فیصل کریم کنڈی اور وزیراعظم پروگرام برائے نوجوانان کے چیئرمین رانا مشہود احمد خان۔
- مقامات: پشاور میں گورنر ہاؤس سے شروع ہونے والی ریلی اور اسلام آباد کے اہم مقامات۔
- بنیادی پیغام: مقبوضہ کشمیر کے عوام کے ساتھ مکمل یکجہتی اور ان کے حق خود ارادیت کی غیر مشروط حمایت۔
گورنر خیبر پختونخوا فیصل کریم کنڈی نے بدھ کے روز پشاور میں گورنر ہاؤس سے ایک بڑی ریلی کی قیادت کی جس میں سیاسی کارکنوں اور شہریوں نے بڑی تعداد میں شرکت کی۔ اس موقع پر خطاب کرتے ہوئے فیصل کریم کنڈی کا کہنا تھا کہ پاکستان کشمیری بھائیوں کی منصفانہ جدوجہد سے کبھی دستبردار نہیں ہوگا۔ انہوں نے کہا کہ وادی میں جاری انسانی حقوق کی پامالیاں اور غیر قانونی اقدامات عالمی ضمیر کے لیے لمحہ فکریہ ہیں۔
ادھر اسلام آباد میں وزیراعظم کے یوتھ پروگرام کے چیئرمین رانا مشہود احمد خان نے بھی اپنے ایک بیان میں اس عزم کا اعادہ کیا کہ پاکستان کشمیر کے معاملے پر ہر بین الاقوامی فورم پر آواز اٹھاتا رہے گا۔ انہوں نے کہا کہ پاکستانی قوم ہر مشکل گھڑی میں کشمیری عوام کے شانہ بشانہ کھڑی ہے اور نوجوان نسل کو اس تاریخی جدوجہد سے روشناس کرانا ہماری ذمہ داری ہے۔
قارئین کے لیے ہدایات
اگر آپ اس حوالے سے جاری ہونے والے سرکاری اعلامیوں یا خارجہ پالیسی کی تازہ ترین صورتحال سے آگاہ رہنا چاہتے ہیں تو وزارت اطلاعات و نشریات یا سرکاری خبر رساں ادارے اے پی پی کی ویب سائٹ وزिट کریں۔ ملک کے تعلیمی اداروں اور سول سوسائٹی کے پلیٹ فارمز پر اس نوعیت کے ایونٹس میں شرکت کر کے کشمیریوں سے یکجہتی کا اظہار کیا جا سکتا ہے۔
آگے کیا دیکھنا ہے
آنے والے دنوں میں اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی کے اجلاسوں اور دفتر خارجہ کی پریس بریفرز پر نظر رکھیں تاکہ معلوم ہو سکے کہ پاکستان اس معاملے پر عالمی سطح پر کیا نئی سفارتی حکمت عملی اپناتا ہے۔ سیاسی تجزیہ کار اس بات کا بھی جائزہ لے رہے ہیں کہ بین الاقوامی انسانی حقوق کی تنظیمیں اس مسئلے پر کیا ردعمل ظاہر کرتی ہیں۔
