لاہور ہارٹیکلچر ایجنسی نے شہر کے بگڑتے ہوئے سبزہ زاروں کو بچانے کے لیے اڈاپٹ اے پارک کے دائرہ کار کو مزید پھیلانے کا فیصلہ کیا ہے۔ مینجنگ ڈائریکٹر ہارٹیکلچر ایجنسی احمد عثمان جاوید کی زیر صدارت ہونے والے ایک اہم اجلاس میں یہ طے پایا کہ صرف سرکاری فنڈز پر انحصار کیے بغیر عوامی اور نجی شراکت داری کے ذریعے باغات کی دیکھ بھال کو یقینی بنایا جائے۔ اس پالیسی کے تحت نجی کمپنیاں، ہاؤسنگ سوسائٹیاں اور فلاحی ادارے شہر کے مختلف تفریحی مقامات اور گرین بیلٹس کو گود لے کر ان کی آرائش اور مرمت کے ذمہ دار ہوں گے۔
یہ پروگرام کیسے کام کرے گا؟
اس اسکیم کے تحت نجی ادارے یا کارپوریٹ شراکت دار مخصوص گراؤنڈز میں گھاس کی تراش خراش، پانی کے نظام کی بہتری اور سیکیورٹی کے اخراجات خود اٹھائیں گے۔ اس کے بدلے میں انہیں متعلقہ پارک کے احاطے میں اپنے نام یا برانڈ کا بورڈ لگانے کی اجازت دی جائے گی۔ ہارٹیکلچر ایجنسی اس بات کو یقینی بنائے گی کہ عام شہریوں کا ان پارکس میں داخلہ مکمل طور پر مفت اور بلا روک ٹوک جاری رہے۔ حکام کا کہنا ہے کہ معاہدے کی خلاف ورزی کرنے یا صفائی کے معیارات پر پورا نہ اترنے والے اسپانسرز کے معاہدے فوری طور پر منسوخ کر دیے جائیں گے۔
لاہور کو اس اقدام کی ضرورت کیوں ہے؟
لاہور کو اس وقت شدید ماحولیاتی آلودگی اور سموگ کے مسائل کا سامنا ہے جبکہ تعمیراتی سرگرمیوں کے بڑھنے سے درختوں اور کھلی جگہوں کا رقبہ تیزی سے کم ہو رہا ہے۔ گلبرگ، اقبال ٹاؤن اور ماڈل ٹاؤن جیسی گنجان آبادیوں میں یہ باغات آکسیجن فراہم کرنے اور درجہ حرارت کو اعتدال میں رکھنے کا واحد ذریعہ ہیں۔ محدود بجٹ کی وجہ سے ضلعی انتظامیہ کے لیے روزمرہ کی مرمت، پودوں کی تبدیلی اور لائٹس کی درستگی جیسے امور اکیلے چلانا مشکل ہو چکا ہے۔ ان ذمہ داریوں کو نجی اداروں کے سپرد کرنے سے سرکاری خزانے پر بوجھ کم ہوگا اور وسائل کو بہتر طریقے سے استعمال کیا جا سکے گا۔
اب آپ کو کیا کرنا چاہیے؟
اگر آپ کسی ایسے محلے میں رہتے ہیں جہاں پارک خستہ حال ہے یا آپ کا تعلق کسی ایسی کمپنی سے جو سماجی بہبود کے کاموں میں حصہ لینا چاہتی ہے، تو آپ جیلانی پارک کے قریب واقع ہارٹیکلچر ایجنسی کے دفتر سے رابطہ کریں۔ شہری متعلقہ میونسپل پورٹل کے ذریعے بھی خراب حالت والے پارکس کی نشاندہی کر سکتے ہیں تاکہ انہیں فوری طور پر نجی تحویل میں دیا جا سکے۔
آگے کیا دیکھنا ہوگا؟
آنے والے دنوں میں اس بات پر نظر رہے گی کہ انتظامیہ کارپوریٹ اسپانسرز کو ٹیکس میں چھوٹ یا اشتہاری مراعات دینے سے متعلق کیا باضابطہ نوٹیفیکیشن جاری کرتی ہے۔ ماہرینِ ماحولیات اس امر کا بھی جائزہ لیں گے کہ آیا گود لیے گئے پارکس کی فہرست اور معاہدوں کی تفصیلات شفاف انداز میں عوام کے سامنے لائی جاتی ہیں یا نہیں۔
