لاہور میں تین پولیس اہلکاروں کے خلاف ایک شہری کو اغوا کرنے اور خود کو کرائم کنٹرول ڈیپارٹمنٹ (CCD) کا افسر ظاہر کر کے 25 لاکھ روپے تاوان مانگنے کا مقدمہ درج کیا گیا ہے۔ یہ واقعہ شہر میں پولیس کی وردی کے غلط استعمال اور بھتہ خوری کے بڑھتے ہوئے واقعات کی ایک سنگین مثال ہے۔
لاہور میں پولیس اہلکاروں کی جانب سے بھتہ خوری
ملزمان نے مبینہ طور پر شہری کے گھر پر چھاپہ مارا اور خود کو سی سی ڈی اہلکار ظاہر کر کے اسے حراست میں لیا۔ بعد ازاں، اہلکاروں نے مغوی کی رہائی کے عوض 25 لاکھ روپے کا مطالبہ کیا۔ اس واقعے کے سامنے آنے کے بعد پولیس حکام نے فوری کارروائی کرتے ہوئے ملوث اہلکاروں کے خلاف مقدمہ درج کیا ہے۔ اس طرح کے واقعات عام شہریوں میں عدم تحفظ کا احساس پیدا کر رہے ہیں۔
جعلی افسران سے بچاؤ کے لیے کیا کریں؟
اگر کوئی شخص خود کو قانون نافذ کرنے والے ادارے کا اہلکار ظاہر کر کے آپ سے رابطہ کرے تو درج ذیل احتیاطی تدابیر اختیار کریں:
- ان سے ان کا سرکاری شناختی کارڈ اور ڈیپارٹمنٹل کارڈ طلب کریں۔
- ان سے پوچھیں کہ وہ کس تھانے یا یونٹ سے آئے ہیں اور سرکاری ویب سائٹ پر موجود نمبر سے تصدیق کریں۔
- موقع پر کسی بھی قسم کی رقم یا قیمتی سامان دینے سے گریز کریں۔
- اگر آپ کو شک ہو تو فوری طور پر ارد گرد کے لوگوں کو مطلع کریں اور پولیس کی ہیلپ لائن پر کال کریں۔
قانونی کارروائی اور مستقبل کا لائحہ عمل
پولیس حکام کا کہنا ہے کہ معاملے کی تحقیقات جاری ہیں اور ملوث اہلکاروں کے خلاف سخت محکمانہ اور قانونی کارروائی کی جائے گی۔ قانون کی خلاف ورزی کرنے والے کسی بھی اہلکار کو رعایت نہیں دی جائے گی۔ شہریوں کو مشورہ دیا جاتا ہے کہ وہ کسی بھی مشکوک سرگرمی کی اطلاع قریبی تھانے یا اعلیٰ حکام کو دیں۔ تحقیقات کے اگلے مراحل میں ملزمان کی شناخت اور ان کے خلاف ہونے والی کارروائی کے بارے میں مزید تفصیلات سامنے لائی جائیں گی۔
