لاہور میں منعقدہ ایک اعلیٰ سطحی کانفرنس نے نئے صوبوں پاکستان کے قیام کے لیے تمام سیاسی جماعتوں بشمول پاکستان تحریک انصاف کو ساتھ لے کر ایک جامع قومی مکالمے کا مطالبہ کر دیا ہے۔
منگل کے روز گورننس کے موضوع پر ہونے والی اس اہم نشست میں شرکاء نے متفقہ طور پر 'لاہور ڈیکلریشن' کی منظوری دی۔ اس اعلامیے میں اس بات پر زور دیا گیا ہے کہ ملک میں انتظامی یونٹس کی تقسیم اور بہتری کے بغیر عام آدمی کو ریلیف دینا ناممکن ہو چکا ہے، اس لیے تمام اسٹیک ہولڈرز کو ذاتی اختلافات بھلا کر سر جوڑ کر بیٹھنا ہو گا۔
نئے صوبوں کی ضرورت کیوں محسوس ہو رہی ہے؟
ملک کے سب سے بڑے صوبے میں انتظامی امور کا بوجھ اس حد تک بڑھ چکا ہے کہ نچلی سطح پر عام شہری کے مسائل کا حل طویل بیوروکریٹک طریقہ کار میں الجھ کر رہ جاتا ہے۔ جنوبی پنجاب، ہزارہ، اور کراچی جیسے علاقوں میں الگ انتظامی اکائیوں کا مطالبہ پرانا ہے، لیکن حالیہ سیاسی ڈیڈ لاک کی وجہ سے اس پر سنجیدہ بحث رکی ہوئی تھی۔
سیاسی تجزیہ کاروں کے مطابق، اتنے بڑے علاقوں کو چند بڑے شہروں سے چلانا اب مؤثر نہیں رہا۔ جب تک گراس روট لیول پر اختیارات منتقل نہیں ہوں گے، اضلاع کی سطح پر بہتری کی امید رکھنا عبث ہے۔
سیاسی مفاہمت اور پی ٹی آئی کا کردار
لاہور ڈیکلریشن کا سب سے اہم نکتہ تمام سیاسی قوتوں کو ایک میز پر لانا ہے، جس میں پی ٹی آئی کو بھی شامل کرنے کی وکالت کی گئی ہے۔ موجودہ سیاسی تناؤ کے ماحول میں حزب اختلاف اور حکومت کے درمیان کسی بھی قومی ایجنڈے پر اتفاق رائے پیدا کرنا ایک بڑا چیلنج ہے۔
کانفرنس کے شرکاء کا ماننا تھا کہ آئینی اصلاحات اور نئے انتظامی یونٹس کے قیام جیسے بڑے فیصلے سیاسی چپقلش کی بھینٹ چڑھ جاتے ہیں۔ اگر پارلیمنٹ سے باہر یا اندر اس پر کوئی گرینڈ ڈائیلاگ شروع ہوتا ہے، تو اس کے لیے تمام فریقین کو لچک দেখাতে ہوگی۔
اب عام شہریوں کو کیا کرنا چاہیے؟
عام پاکستانی کے طور پر آپ کو اس مباحثے پر گہری نظر رکھنی چاہیے کیونکہ انتظامی تقسیم کا براہ راست تعلق آپ کے ٹیکس کے پیسوں، مقامی ترقی، اور پولیس و پٹواری کلچر میں بہتڑ سے ہے۔ آپ اپنے مقامی اراکین اسمبلی سے یہ سوال پوچھ سکتے ہیں کہ وہ نئے انتظامی یونٹس اور بلدیاتی اختیارات کی منتقلی کے حامی ہیں یا نہیں۔
آگے کیا دیکھنا ہوگا؟
آنے والے ہفتوں میں یہ دیکھنا اہم ہوگا کہ آیا حکومت اس اعلامیے پر کوئی رسمی ردعمل دیتی ہے یا نہیں۔ کیا دیگر بڑی سیاسی جماعتیں اس ڈیکلریشن کی حمایت میں سامنے آتی ہیں یا یہ بیان بھی روایتی سیاسی بیانات کی طرح دبا دیا جاتا ہے؟ تمام نگاہیں اب اس بات پر ہیں کہ آیا پاکستان تحریک انصاف اس مجوزہ قومی مذاکرات کا حصہ بننے پر آمادگی ظاہر کرتی ہے یا نہیں۔
