لاہور کے گھُرکی ٹرسٹ ٹیچنگ اسپتال کے ماہر سرجنوں نے پیوک ٹومور (pelvic tumour) کے مریض کا کامیاب آپریشن کرتے ہوئے ہڈی کا کینسر نکالا اور چین کی جدید تھری ڈی پرنٹنگ ٹیکنالوجی سے تیار کردہ کسٹم امپلانٹ کی مدد سے مریض کے ہپ جوڑ کو دوبارہ تعمیر کیا۔ چین اکنامیک نیٹ (CEN) کی رپورٹ کے مطابق یہ پیچیدہ سرجری پاکستان میں آرتھوپیڈک آنکولوجی کے شعبے میں ایک اہم سنگ میل کی حیثیت رکھتی ہے، جس سے مقامی مریضوں کے لیے جدید ترین طبی علاج کے دروازے کھل گئے ہیں۔
پاکستان میں ہڈیوں کے پیچیدہ کینسر کے کیسز میں عام طور پر باہر سے درآمد شدہ روایتی پرازٹھیٹک فٹ کرنے میں شدید مشکلات کا سامنا کرنا پڑتا ہے کیونکہ ہر مریض کی ہڈی کی ساخت منفرد ہوتی ہے۔ جدید ڈیجیٹل اسکیننگ اور تھری ڈی پرنٹنگ کی بدولت اب ایسے امپلانٹس تیار کیے جا رہے ہیں جو مریض کی جسمانی خصوصیات سے ہو بہو مطابقت رکھتے ہیں۔ اس طریقہ کار سے آپریشن کا دورانیہ کم ہوتا ہے، خون کا ضیاع رکتا ہے اور سرجنز کو کینسر زدہ حصے کو درست طریقے سے نکالنے میں مدد ملتی ہے۔
چینی تھری ڈی امپلانٹ کیسے کام کرتا ہے؟
کولہے اور ہڈی کے نچلے حصے کے ٹیومر نکالنا سرجنز کے لیے انتہائی مشکل مرحلہ ہوتا ہے کیونکہ اس حصے میں اہم خون کی شریانیں اور اعصاب موجود ہوتے ہیں۔ روایتی طریقوں میں ہڈیوں کے بڑے گرافت استعمال کیے جاتے ہیں جو طویل مدت میں انفیکشن یا خرابی کا سبب بنتے ہیں۔
- مریض کی ساخت کے مطابق ڈیزائن: ڈیجیٹل اسکینز کی مدد سے بالکل ویسی ہی ہڈی پرنٹ کی جاتی ہے جو جسم سے نکالی جانی ہو۔
- بہترین مٹیریل: اس امپلانٹ میں ٹائٹینیم کا استعمال کیا جاتا ہے جو انسانی ہڈی کے ساتھ باآسانی جڑ جاتا ہے۔
- تیز تر صحت یابی: درست فٹنگ کی وجہ سے مریض آپریشن کے بعد جلد اپنے پاؤں پر کھڑا ہونے کے قابل ہو جاتا ہے۔
پاک چین طبی تعاون میں وسعت
یہ کامیاب آپریشن اس بات کا ثبوت ہے کہ پاکستان کے طبی ادارے اور چینی بائیوٹیک کمپنیاں صحت کے شعبے میں ایک دوسرے کے قریب آ رہی ہیں۔ گھُرکی ٹرسٹ ٹیچنگ اسپتال جیسے ادارے اب دنیا بھر میں استعمال ہونے والی جدید ترین ٹیکنالوجی کو پاکستان لانے میں سرگرم عمل ہیں تاکہ غریب اور متوسط طبقے کے وہ مریض جو بیرون ملک علاج کے متحمل نہیں ہو سکتے، انہیں ملک کے اندر ہی عالمی معیار کی سہولیات مل سکیں۔
آپ کو کیا کرنا چاہیے؟
اگر خدانخواستہ آپ یا آپ کے کسی عزیز کو ہڈیوں کے کینسر یا پیچیدہ ٹیومر کا سامنا ہے، تو کسی عام معالج پر انحصار کرنے کے بجائے لاہور کے گھُرکی ٹرسٹ ٹیچنگ اسپتال یا شوکت خانم اسپتال جیسے بڑے طبی اداروں کے ماہر آرتھوپیڈک آنکولوجسٹ سے رابطہ کریں۔ کسٹم امپلانٹس کے حوالے سے اپنے سرجن سے تفصیلی مشاورت کریں اور تمام میڈیکل رپورٹس ساتھ رکھیں۔
آگے کیا دیکھنا ہوگا؟
ڈریپ (DRAP) کی جانب سے کسٹمائزڈ میڈیکل ڈیوائسز کے امپورٹ اور ریگولیٹری فریم ورک پر نظر رکھیں کیونکہ ان قوانین میں نرمی آنے سے یہ جدید علاج پاکستان کے دیگر سرکاری اسپتالوں تک بھی سستا ہو کر پہنچ سکے گا۔
