سیلاب کے تباہ کن اثرات کے بعد لاہور فیصل آباد ریلوے روٹ کو کم از کم چار ماہ کے لیے بند کر دیا گیا ہے۔ پاکستان ریلویز کی جانب سے جاری کردہ معلومات کے مطابق، شیخوپورہ کے راستے گزرنے والے اس اہم ٹریک کو شدید نقصان پہنچا ہے جس کی مرمت کے لیے طویل وقت درکار ہے۔

لاہور فیصل آباد ریلوے روٹ کی بندش کے اثرات

اس راستے کی بندش سے روزانہ سفر کرنے والے ہزاروں مسافروں، طلباء اور تاجروں کو شدید مشکلات کا سامنا ہے۔ یہ روٹ خطے کی معاشی اور سماجی سرگرمیوں میں ریڑھ کی ہڈی کی حیثیت رکھتا ہے۔

  • بندش کا دورانیہ: موجودہ تاریخ سے تقریباً چار ماہ۔
  • متاثرہ علاقہ: لاہور اور فیصل آباد کے درمیان براستہ شیخوپورہ ٹریک۔
  • موجودہ صورتحال: اس روٹ پر تمام ٹرین آپریشنز تاحکم ثانی معطل کر دیے گئے ہیں۔

مرمت میں چار ماہ کیوں لگیں گے؟

ریلوے حکام کے مطابق سیلابی پانی نے ٹریک کے نیچے کی مٹی کو بری طرح متاثر کیا ہے۔ صرف اوپری مرمت کافی نہیں ہے، بلکہ ٹریک کی بنیادوں کو دوبارہ مضبوط کرنے، سلیپرز اور بیلسٹ کی تبدیلی کی ضرورت ہے۔ اس کے علاوہ، سگنلنگ کا نظام جو طویل عرصے تک پانی میں ڈوبا رہا، اسے مکمل طور پر دوبارہ ترتیب دے کر ٹیسٹ کرنا ضروری ہے تاکہ مسافروں کی حفاظت کو یقینی بنایا جا سکے۔

آپ کو کیا کرنا چاہیے؟

اگر آپ نے اس روٹ کے لیے پہلے سے ٹکٹ خرید رکھے ہیں، تو آپ مکمل ریفنڈ کے حقدار ہیں۔ اپنے قریبی ریلوے اسٹیشن کے بکنگ آفس جائیں یا railways.gov.pk پر رابطہ کریں۔ ان دو شہروں کے درمیان سفر کرنے والے مسافروں کو فی الحال ایم-3 موٹروے یا جی ٹی روڈ کا متبادل اختیار کرنا پڑے گا، تاہم ان راستوں پر ٹریفک کا دباؤ بڑھنے کا امکان ہے۔

آئندہ کے لیے کیا توقع رکھیں؟

وزارتِ ریلوے کی جانب سے ممکنہ طور پر متبادل شٹل سروس کے بارے میں اعلانات پر نظر رکھیں۔ اگرچہ چار ماہ کا وقت دیا گیا ہے، لیکن موسمی حالات یا تعمیراتی سامان کی فراہمی میں تاخیر اس تاریخ کو تبدیل کر سکتی ہے۔ تازہ ترین اپ ڈیٹس کے لیے پاکستان ریلویز کے آفیشل سوشل میڈیا اکاؤنٹس کو فالو کریں۔