لاہور کے ہزاروں مسافروں کے لیے بڑی پریشانی کا وقت قریب آ گیا ہے کیونکہ لاہور میٹرو بس سروس 11 اگست 2024 سے بند ہونے کے دہانے پر ہے۔ میٹرو بس چلانے والی نجی کمپنی 'ویڈا ٹرانزٹ سولیوشنز' نے پنجاب ماس ٹرانزٹ اتھارٹی (PMA) کو باضابطہ طور پر آگاہ کیا ہے کہ ایندھن کی بڑھتی ہوئی قیمتوں کے باعث اب آپریشن جاری رکھنا ممکن نہیں رہا۔
لاہور میٹرو بس بحران کی تفصیلات
نجی کمپنی اور حکومتی حکام کے درمیان طویل عرصے سے جاری مذاکرات ناکام ہو چکے ہیں۔ جہاں کمپنی کا کہنا ہے کہ موجودہ معاشی حالات میں سروس چلانا خسارے کا سودا ہے، وہیں پنجاب ماس ٹرانزٹ اتھارٹی نے اس اقدام کو 'بلیک میلنگ' قرار دیا ہے۔ اتھارٹی نے اعلان کیا ہے کہ وہ اس معاملے کو عدالت میں چیلنج کریں گے تاکہ سروس کی بحالی کو یقینی بنایا جا سکے۔
آپ کے روزمرہ سفر پر اثرات
- تعطلی کی تاریخ: آپریشن 11 اگست 2024 سے بند ہونے کا امکان ہے۔
- متاثرہ روٹ: گجومتہ سے شاہدرہ تک کا پورا کوریڈور متاثر ہوگا۔
- حکومتی موقف: PMA کا دعویٰ ہے کہ وہ متبادل انتظامات پر غور کر رہے ہیں تاکہ شہریوں کو مشکلات کا سامنا نہ ہو۔
یہ سروس ان ہزاروں طلباء اور ملازمین کے لیے ریڑھ کی ہڈی کی حیثیت رکھتی ہے جو روزانہ سستے اور تیز سفر کے لیے میٹرو کا انتخاب کرتے ہیں۔ سروس کی بندش سے شہر کی سڑکوں پر ٹریفک کا دباؤ بھی بڑھنے کا خدشہ ہے۔
آپ کو کیا کرنا چاہیے؟
مسافروں کو مشورہ دیا جاتا ہے کہ وہ 11 اگست کے بعد کے لیے اپنے سفر کے متبادل انتظامات پہلے سے کر لیں۔ حکومت کی جانب سے حتمی حکم نامہ یا ہنگامی پلان کسی بھی وقت جاری ہو سکتا ہے۔ عدالت کے کسی حکم امتناعی یا حکومتی مداخلت کی صورت میں صورتحال تبدیل ہو سکتی ہے، اس لیے تازہ ترین خبروں پر نظر رکھیں۔
