داتا دربار عرس پر لاہور میٹرو بس سروس معطل ہونے کی وجہ سے آج صوبائی دارالحکومت میں روزانہ سفر کرنے والے ہزاروں مسافروں کو شدید مشکلات کا سامنا ہے۔ حضرت داتا گنج بخش (رح) کے سالانہ عرس اور چہلم کے موقع پر سیکیورٹی اور انتظامی انتظامات کو حتمی شکل دیتے ہوئے متعلقہ حکام نے پورے راستے پر ماس ٹرانسمیشن آپریشنز کو مکمل طور پر بند کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔ اگر آپ گجومتہ سے شاہدرہ تک سفر کے لیے روزانہ اس تیز رفتار راہداری پر انحصار کرتے ہیں، تو آپ کو فوری طور پر متبادل ذرائع تلاش کرنا ہوں گے۔ ضلعی انتظامیہ اور سیکیورٹی اداروں نے مزار کے گردونواح میں جمع ہونے والے زائرین کے جم غفیر کو منظم کرنے اور عوام کی حفاظت کو یقینی بنانے کے لیے یہ پورے دن کی بندش کا حکم دیا ہے۔
میٹرو بس روٹ کیوں بند کیا گیا ہے
تاریخی روایات کے مطابق داتا دربار کے احاطے میں منعقد ہونے والی ان تقریبات میں پنجاب بھر سے لاکھوں عقیدت مند شرکت کرتے ہیں۔ اتنی بڑی عوامی اجتماع کے لیے سیکیورٹی اور لاجسٹکس کو سنبھالنا انتہائی حساس کام ہے، جس کی وجہ سے شہر کے اندرونی حصوں میں بڑی شاہراہوں کو سیل کرنا پڑتا ہے۔ چونکہ میٹرو بس کا مخصوص ٹریک کئی اہم راستوں اور پیدایشی گزرگاہوں کو کاٹتا ہے جہاں زائرین کی بڑی تعداد موجود ہوتی ہے، اس لیے بھاری ٹرانسمیشن گاڑیوں کو چلانا سیکیورٹی کے لحاظ سے خطرناک ہو سکتا ہے۔ سٹی ٹریفک پولیس نے لوئر مال، اعظم مارکیٹ اور بھاٹی چوک کے اطراف کی گلیوں اور سڑکوں کو مکمل طور پر بند کر دیا ہے۔
لاہور میں سفر کے متبادل راستے
مرضی کے مطابق سفری سہولت نہ ہونے کی وجہ سے شہریوں کو شدید ٹریفک جام کا سامنا کرنا پڑ رہا ہے۔ مسافر پہلے ہی فیروزپور روڈ، ملتان روڈ اور جیل روڈ جیسے متوازی راستوں پر ٹریفک کے شدید دباؤ کی شکایت کر رہے ہیں کیونکہ عام گاڑیاں اور بائیک سوار متبادل راستوں کا رخ کر رہے ہیں۔
آپ اس بندش کے دوران اپنے روزمرہ کے سفر کو درج ذیل طریقوں سے آسان بنا سکتے ہیں:
- ان ڈرائیو، یانگو یا دیگر رائیڈ ہیلنگ ایپس کا استعمال کریں، تاہم زیادہ طلب کی وجہ سے کرایوں میں اضافے کے لیے تیار رہیں۔
- مقامی ویگن اور لوکل ٹرانسپورٹ کے ان روٹس کا انتخاب کریں جو سخت سیکیورٹی حدود سے باہر چل رہے ہیں۔
- اگر آپ کا سفر غیر ضروری ہے تو اسے رات گئے یا کل صبح تک مؤخر کر دیں۔
آپ کو کیا کرنا چاہیے
گھر سے نکلنے سے پہلے ٹریفک پولیس کی تازہ ترین ایڈوائزری ضرور چیک کریں۔ اگر آپ کا دفتر یا یونیورسٹی کا راستہ اندرونی شہر یا ایم اے جناح روڈ کے قریب سے گزرتا ہے تو شدید تاخیر کے لیے تیار رہیں۔ ضلعی انتظامیہ کی جانب سے سیکیورٹی کلیئرنس ملنے اور تقریبات کے اختتام کے بعد پبلک ٹرانسپورٹ کا نظام کل صبح تک معمول پر آنے کا امکان ہے۔
ٹرانسپورٹ کے حوالے سے آئندہ کیا توقع ہے
پنجاب ماس ٹرانسمیشن اتھارٹی (PMA) کے باضابطہ اعلانات پر نظر رکھیں تاکہ سروس کی بحالی کی بروقت اطلاع مل سکے۔ روایتی طور پر عرس کی تقریبات ختم ہونے کے بعد رات گئے بندشیں ہٹا دی جاتی ہیں، تاہم بھاٹی چوک کے قریب موجود ہجوم کی وجہ سے معمول کی آمدورفت میں کچھ دیر ہو سکتی ہے۔ جمعہ کے روز اپنے سفر کی منصوبہ بندی احتیاط سے کریں کیونکہ روڈز پر ٹریفک کا دباؤ رکاوٹیں ہٹنے کے بعد بھی کچھ دیر تک برقرار رہتا ہے۔
